The Essence of Urdu Poetry
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
ابھی اس راہ میں مٹی کی مہک باقی ہے
روانگی میں ابھی تھوڑی سی جھجھک باقی ہے
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
عکسِ خوشبو ہوں، بکھرنے سے نہ روکو مجھ کو
میں تو دریا ہوں، اترنے سے نہ روکو مجھ کو
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جانا
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
پتہ اب تک نہیں بدلا ہمارا
مگر چھوڑو، اب انہیں کیا بتانا
زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتی ہے
یہ الگ بات ہے کہ مرنے کی دعا یاد نہیں