یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے

نظم – علامہ اقبال

یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے

بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حرم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے

اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو
وہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے

رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا کر
خودداریِ ساحل دے، آزادیِ دریا دے

بے لَوث محبّت ہو، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اُجالا کر، دل صورتِ مینا دے

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!

 
 
 

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
وادیِ فاراںمکہ مکرمہ کے پہاڑ (مراد حجاز)
دیدۂ بِینادیکھنے والی آنکھ / بصیرت
سُوئے حرمکعبہ کی طرف / حق کی طرف
ہمدوشِ ثریّاآسمان کی بلندیوں کے برابر
بے لَوثبغیر کسی لالچ کے / خالص
اندیشۂ فرداآنے والے کل (مستقبل) کی فکر
بلبلِ نالاںفریاد کرنے والا پرندہ
تاثیر کا سائلاثر مانگنے والا / دعا میں اثر کا طالب