Adeem Hashmi 4

Mirza Ghalib

Shahenshah-e-Ghazal

📅1797 - 1869 | 📍 India

غزل- مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

غزل- مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا واعظ
کہیں ایسا نہ ہو وہاں بھی وہی کافر صنم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

مجموعی مطلب
مرزا غالب کی یہ شاہکار غزل انسانی نفسیات، ادھوری خواہشات اور دنیاوی رشتوں کی بے ثباتی کا ایک آئینہ ہے۔ اس غزل کا مطلع (پہلا شعر) زندگی کی اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں اور ہر تمنا اپنے پیچھے ایک نئی تڑپ چھوڑ جاتی ہے۔ غالب نے نہایت مہارت سے اپنے دکھ کو حضرت آدمؑ کے جنت سے نکالے جانے کے واقعے سے تشبیہ دے کر اپنی رسوائی کا ذکر کیا ہے۔ اس کلام میں جہاں محبت کی شدت اور محبوب کے لیے مٹنے کا جذبہ ہے، وہیں زاہد و واعظ پر طنز کے ذریعے انسانی فطرت کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ غزل قاری کو زندگی کی حقیقتوں پر غور کرنے اور اپنی محرومیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانے کا حوصلہ دیتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
ارماںحسرت، آرزو، تمنا
خلدجنت، بہشت
بے آبروذلیل، رسوا، جس کی عزت نہ رہے
کوچہگلی، راستہ (محبوب کی گلی)
کافرمنکر (شاعری میں محبوب کے لیے پیار اور طنز کا لفظ)
دم نکلناجان نکلنا، بہت زیادہ مر مٹنا
واعظنصیحت کرنے والا، مذہبی مبلغ
صنمبت، محبوب
مے خانہشراب خانہ

مزید متعلقہ پوسٹس

شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
اپنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکھوں 
دل میں اِک لہر سی اٹھی ہے ابھی
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →