
Shahenshah-e-Ghazal
📅1797 - 1869 | 📍 Indiaغزل- مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا واعظ
کہیں ایسا نہ ہو وہاں بھی وہی کافر صنم نکلے
کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مجموعی مطلب
مرزا غالب کی یہ شاہکار غزل انسانی نفسیات، ادھوری خواہشات اور دنیاوی رشتوں کی بے ثباتی کا ایک آئینہ ہے۔ اس غزل کا مطلع (پہلا شعر) زندگی کی اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں اور ہر تمنا اپنے پیچھے ایک نئی تڑپ چھوڑ جاتی ہے۔ غالب نے نہایت مہارت سے اپنے دکھ کو حضرت آدمؑ کے جنت سے نکالے جانے کے واقعے سے تشبیہ دے کر اپنی رسوائی کا ذکر کیا ہے۔ اس کلام میں جہاں محبت کی شدت اور محبوب کے لیے مٹنے کا جذبہ ہے، وہیں زاہد و واعظ پر طنز کے ذریعے انسانی فطرت کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ غزل قاری کو زندگی کی حقیقتوں پر غور کرنے اور اپنی محرومیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانے کا حوصلہ دیتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ارماں | حسرت، آرزو، تمنا |
| خلد | جنت، بہشت |
| بے آبرو | ذلیل، رسوا، جس کی عزت نہ رہے |
| کوچہ | گلی، راستہ (محبوب کی گلی) |
| کافر | منکر (شاعری میں محبوب کے لیے پیار اور طنز کا لفظ) |
| دم نکلنا | جان نکلنا، بہت زیادہ مر مٹنا |
| واعظ | نصیحت کرنے والا، مذہبی مبلغ |
| صنم | بت، محبوب |
| مے خانہ | شراب خانہ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved