Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan
GHAZAL NAZAM ASHAAR IMAGE SHAIRY

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

غزل ـ منیر نیازی


کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے


خراب صدیوں کی بے خوابیاں تھیں آنکھوں میں
اب ان بے انت خلاؤں میں خواب کیا دیتے


ہوا کی طرح مسافر تھے دلبروں کے دل
انہیں بس ایک ہی گھر کا عذاب کیا دیتے


شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میں
ہم اتنی تنگی میں اس کو شراب کیا دیتے


منیرؔ دشت شروع سے سراب آسا تھا
اس آیئنے کو تمنا کی آب کیا دیتے