
koi laqab nahi mila
📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan
کیا کہوں اب تمہیں خزاں والو
جل گیا آشیاں میں کیا کیا کچھ
دل تیرے بعد سو گیا ورنہ
شور تھا اس مکان میں کیا کیا کچھ
دکھاؤں داغ محبت جو ناگوار نہ ہو
سناؤں قصہء فرقت اگر برا نہ لگے
بہت ہی سادا ہے تو، اور زمانہ ہے عیار
خدا کرے کہ تجھے شہر کی ہوا نہ لگے
شوق یہ تھا ، کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
رنج یہ ہے ، کہ تماشا نہ دکھایا کوئی
شہر میں ہمدم دیرینہ بہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ میرے کام نہ آیا کوئی
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب
کس نے کس کو یاد کیا ہے
تیرے ساتھ گئی وہ رونق
اب اس شہر میں کیا رکھا ہے