nasir kazmi

Nasir Kazmi

koi laqab nahi mila

📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan
GHAZAL NAZAM ASHAAR Image Poetry

ناصر کاظمی کے اشعار

شہرِ ناپراساں

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
دغا کرے تو محبت میں نام ہے اس کا

📋 Copy

پیرِ مغاں

پھر آج کوئی غزل میر کی پڑھی جائے
پھر آج وقت کو رکنے کا مشورہ دے دیں

📋 Copy

خاموشی

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ کو پا کر اداس رہتا ہوں

📋 Copy

یادِ رفتہ

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ صورت اب نظر آتی نہیں ہے

📋 Copy

وقتِ کڑا

ہوا ہے تیز، چراغوں کو اب بچایا جائے
جو ہو سکے تو کوئی در بھی بند کر دیں اب

📋 Copy

اجنبی شہر

اس شہر میں کتنے چہرے تھے
کچھ یاد نہیں سب بھول گئے

📋 Copy