Untitled design 13

Nasir Kazmi

koi laqab nahi mila

📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan

ناصر کاظمی کے اشعار

جدید اردو غزل کے منفرد شاعر ناصر کاظمی کی شاعری، جہاں ہجر کی راتیں، پرانی یادیں اور چاند کی اداسیایک نیا روپ لیتی ہیں۔ ناصرکا ظمی کے بہترین کلام اور اشعار کا ایک خاص انتخاب جو روح کو چھو لے۔

شہرِ نا پراساں

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
دغا کرے تو محبت میں نام ہے اس کا

خاموشی

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ کو پا کر اداس رہتا ہوں

یادِ رفتہ

جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ صورت اب نظر آتی نہیں ہے

وقتِ کڑا

ہوا ہے تیز، چراغوں کو اب بچایا جائے
جو ہو سکے تو کوئی در بھی بند کر دیں اب

اجنبی شہر

اس شہر میں کتنے چہرے تھے
کچھ یاد نہیں سب بھول گئے

پیرِ مغاں

پھر آج کوئی غزل میر کی پڑھی جائے
پھر آج وقت کو رکنے کا مشورہ دے دیں

مزید متعلقہ پوسٹس

Mian Mohammad Bakhsh ke Ashaar
Ashaar of Wasi Shah
Urdu Ashaar Library
Ashaar Parveen Shakir
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →