
koi laqab nahi mila
📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
دغا کرے تو محبت میں نام ہے اس کا
پھر آج کوئی غزل میر کی پڑھی جائے
پھر آج وقت کو رکنے کا مشورہ دے دیں
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ کو پا کر اداس رہتا ہوں
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ صورت اب نظر آتی نہیں ہے
ہوا ہے تیز، چراغوں کو اب بچایا جائے
جو ہو سکے تو کوئی در بھی بند کر دیں اب
اس شہر میں کتنے چہرے تھے
کچھ یاد نہیں سب بھول گئے