گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے– فیض احمد فیض

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کبھی تو صبح ترے کنج لب سے…

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کبھی تو صبح ترے کنج لب سے…

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہو جاؤ…

کہاں میں کہاں ہو تم جواب آیا جہاں ہو تم مرے جیون سے ظاہر ہو مرے غم میں نہاں ہو تم مری تو ساری دنیا ہو مرا سارا جہاں ہو تم مری سوچوں کے محور ہو مرا زور بیاں…

ٹوٹنے والے بکھر کے بھی صدا نہیں دیتے مِٹا دیتے ہیں اپنی ہستی کو دغا نہیں دیتے درد تو دیتے ہیں یہ درد کا درماں بن کر دردِ دل کی مگر کبھی دُعا نہیں دیتے اُجاڑ دیتے ہیں سارا ہی…

یہ دل اداس ہے بہت کوئی پیغام ہی لکھ دوتم اپنا نام نہ لکھو گمنام ہی لکھ دو میری قسمت میں غمِ تنہائی ہے لیکن تمام عمر نہ لکھو مگراک شام ہی لکھ دو ضروی تو نہیں کہ مل جائے سکوں…