
Sufi
📅1188 - 1266 | 📍 Pakistanحضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ ایک انتہا درجے کی عابدہ، زاہدہ اور مخلص خاتون تھیں۔ جب بابا فریدؒ ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے، تو آپ کی والدہ راتوں کو اٹھ کر رب کی بارگاہ میں رو رو کر دعا کیا کرتی تھیں
اے اللہ! اگر تو مجھے بیٹا عطا کرے تو ایسا دینا کہ بیٹا میرا ہو پر بندہ تیرا ہو۔ وہ دودھ تو میری چھاتی سے پیے، لیکن شکر تیرا ادا کرے۔ وہ رزق زمین کا کھائے، لیکن اس زمین پر تیرے دین کا ساہی اور سچا مجاہد بنے۔
جب بابا فریدؒ ذرا بڑے ہوئے تو انہیں بچپن میں شکر (میٹھا) بہت پسند تھی۔ والدہ نے اپنے بچے کے دل میں نماز کی محبت ڈالنے کے لیے ایک بڑا ہی پیارا اور مخلصانہ طریقہ اختیار کیا۔ سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں وہ اٹھتیں، اپنے لاڈلے بیٹے کے لیے پانی گرم کرتیں، وضو کرواتیں اور مصلّٰے (جائے نماز) کے نیچے شکر کی ایک پڑیا چھپا کر رکھ دیتیں۔
وہ فرماتی تھیں: “بیٹا! جو بچہ نماز پڑھتا ہے، اللہ پاک اس کے مصلّے کے نیچے سے شکر عطا فرماتا ہے۔” بابا فریدؒ شوق سے نماز پڑھتے اور ہر بار مصلّہ اٹھانے پر انہیں شکر کی پڑیا مل جاتی۔ آپ اتنے معصوم اور خوش تھے کہ مدرسے میں اپنے ہم جماعت دوستوں سے بھی کہتے: “نماز پڑھا کرو، نماز پڑھنے سے اللہ پاک بڑی میٹھی اور پیاری شکر دیتا ہے۔” یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور بچپن ہی سے آپ پانچوں وقت کے پکے نمازی بن گئے۔
امتحان کی وہ ایک صبح
ایک دن فجر کے وقت حسبِ معمول والدہ نے وضو کروایا، مصلّہ بچھایا، لیکن وہ ایک سادہ دیہاتی ماں تھیں، گھر کے کاموں اور جلدی میں مصلّے کے نیچے شکر رکھنا بھول گئیں۔جب بابا فریدؒ نے نماز شروع کی، تو اچانک والدہ کو یاد آیا کہ آج تو شکر رکھنا بھول گئی ہوں۔ اب وہ سخت پریشان ہوئیں کیونکہ انہوں نے ہی بیٹے کو سکھایا تھا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ ہے۔ اگر وہ اب شکر رکھنے جاتیں تو نماز کا ادبِ احترام جاتا رہتا۔ وہ مصلّے کے ایک کونے میں کھڑی ہو کر زار و قطار رونے لگیں۔ وہ اپنے بیٹے کی کسی نوکری یا دنیاوی مستقبل کے لیے نہیں رو رہی تھیں، بلکہ ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو گواہی دے رہے تھے کہ وہ کس قدر تڑپ رہی تھیں۔ انہوں نے رو کر اللہ کی بارگاہ میں التجا کی:
"یا باری تعالیٰ! میں نے اپنے فرید کو اپنا مطیع بنانے کے لیے یہ جتن نہیں کیے تھے، میں تو اسے تیرا سچا بندہ بنانا چاہتی تھی۔ اے اللہ! میری پردہ داری رکھ لے۔ اگر آج راز کھل گیا تو میرا فرید کہیں نماز نہ چھوڑ دے۔"
والدہ وہاں تڑپتی رہیں اور ادھر بابا فریدؒ نے جیسے ہی نماز مکمل کر کے مصلّہ اٹھایا، تو وہاں صرف ایک پڑیا نہیں تھی، بلکہ مصلّے کے نیچے شکر کا ایک پورا ڈھیر (دریا) بہہ رہا تھا! بابا فریدؒ نے خوشی سے چیخ کر اپنی والدہ کو پکارا: “امّاں! جلدی آؤ، دیکھو آج کی شکر کتنی لذیذ اور انوکھی ہے! آج تو میرے اللہ نے کمال کر دیا، ایک پڑیا کی جگہ شکر کا پورا خزانہ عطا کر دیا۔ والدہ دوڑتی ہوئی آئیں، اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگا لیا اور رو کر بولیں:
میرے پیارے بیٹے! پہلے شکر تیری ماں دیتی تھی، لیکن آج شکر زمین پر رکھنے والے نے (تیرے رب نے) خود تجھے غیب سے شکر عطا فرمائی ہے
اسی دن کے بعد سے آپ کا لقب “گنجِ شکر” (شکر کا خزانہ) مشہور ہو گیا۔
بابا فریدؒ کو کسی استاد کے ڈنڈے نے یا کسی دنیاوی لالچ نے نمازی نہیں بنایا تھا، بلکہ ایک ماں کے خلوص اور دعا نے انہیں رب سے جوڑا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ساری زندگی ان کے چہرے سے سجدوں کا نور نہیں گیا اور وہ دنیا کو یہ پیغام دیتے رہے:
اٹھ فرِیدا سُتِیا، داڑھی چٹا ہویا اگو آ گیا نیڑے، پِچھا رہ گیا دُور
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved