1

Baba Fariduddin Ganjshakar

Sufi

📅1188 - 1266 | 📍 Pakistan

بابا فریدؒ کے مشہور اشعار

 عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے منتخب حکمت بھرے اشعار، جو انسانیت، صبر اور محبت کا درس دیتے ہیں۔

جو تَیں مارن مُکیّاں تنھاں نہ ماریں گُھمّ
آپنے گھر جائیے پیر تِنھاں دے چُم

مفہوم

اس کلام میں بابا فریدؒ عاجزی اور درگزر کا سبق دے رہے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آپ پر ظلم کرے یا جسمانی و ذہنی تکلیف پہنچائے، تو بدلہ لینے کے بجائے صبر کریں اور اپنی انا کو ختم کر کے ان سے محبت سے پیش آئیں، کیونکہ صوفی کا راستہ انتقام کا نہیں بلکہ دل جیتنے کا ہے۔

فریداؔ، بُرے دا بھلا کر، غصہ من نہ ہنڈائے
دہی روگ نہ لگئی، پلے سبھ کچھ پائے

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں انسانی اخلاق اور باطنی سکون کا ایک گہرا نسخہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انسان! اگر کوئی تمہارے ساتھ برائی یا زیادتی کرے، تو تم بدلے میں اس کے ساتھ بھی بھلائی اور نیکی کا رویہ اختیار کرو۔ اپنے دل میں کسی کے لیے نفرت، غصہ یا انتقام کی آگ کو جگہ نہ دو۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ غصے اور حسد کی آگ سے آزاد ہو کر تمہارا جسم اور روح ہر قسم کی بیماری (نفسیاتی و جسمانی روگ) سے محفوظ رہیں گے، اور تم دنیا و آخرت کی تمام تر حقیقی خوشیاں، قلبی سکون اور رب کی رضا اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔

فریداؔ، خاک نہ نندیئے، خاکو جیڈ نہ کوئے
جیوندیاں پیراں تھلے، مُوئیاں اُپر ہوئے

مجموعی مفہوم

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں عاجزی اور انکساری کا درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انسان! مٹی (خاک) کو کبھی حقیر یا معمولی نہ سمجھو اور نہ ہی اس کی برائی کرو، کیونکہ کائنات میں مٹی جتنا صابر اور بڑا کوئی نہیں ہے۔ جب انسان زندہ ہوتا ہے تو یہی مٹی ہر وقت اس کے پیروں تلے روندی جاتی ہے لیکن وہ اف تک نہیں کرتی، اور جب انسان مر جاتا ہے تو یہی مٹی اپنے سینے میں جگہ دے کر اس کے اوپر آ جاتی ہے اور اسے پناہ دیتی ہے۔ یعنی جو دنیا میں سب سے زیادہ جھکتا اور عاجزی اختیار کرتا ہے، آخر کار رتبہ اسی کا بلند ہوتا ہے۔

فریداؔ، راتیں وڈیاں دُکھ دیاں، دن وی دُکھ دے نال
دل اندر جو یار وسے، سو کیون چھوڑے حال

مجموعی مفہوم

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں عشقِ الٰہی کی تڑپ اور باطنی سکون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (جدائی کے باعث) میری راتیں بھی دکھوں کی وجہ سے بہت لمبی اور بھاری ہو گئی ہیں اور میرے دن بھی شدید تکلیف اور مصیبت میں گزر رہے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود، میرا وہ پیارا محبوب (اللہ تعالی) جو ہر وقت میرے دل کے اندر بستا ہے، وہ بھلا مجھے اس کٹھن حال میں کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے! یعنی دنیاوی حالات اور آزمائشیں چاہے جتنی بھی سخت ہوں، اگر دل میں رب کی سچی محبت موجود ہو تو انسان مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا مالک اس کے حال سے واقف ہے اور اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

فریداؔ، تینا مکھیے ناں وس، جنہاں اندر چاؤ
اک رب دا نام بھل گئے، دوجا دنیا دا بھاؤ

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں انسان کی غفلت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں کے اندر صرف دنیاوی عیش و عشرت، لالچ اور خواہشات کا چاؤ (شوق) بسا ہوتا ہے، ان کی زندگیوں اور وقت میں کبھی برکت (مکھیے ناں وس) نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ دو بڑے نقصانات میں گھرے ہوتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ وہ اپنے سچے رب کا نام اور اس کی یاد بالکل بھول جاتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ وہ رات دن صرف دنیا کی محبت اور خوف (دنیا دا بھاؤ) کے چکر میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ یعنی جو دل خدا کی یاد سے خالی ہو کر دنیا کی محبت میں گم ہو جائے، وہ کبھی حقیقی سکون اور برکت نہیں پا سکتا۔

فریداؔ، نیند نہ آوے اکھ نوں، جد یار وسے خیال
اک پل وی وسر نہ سکے، ایسا عشق کمال

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں عشقِ حقیقی کی انتہا اور باطنی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب سے میرا پیارا محبوب (اللہ تعالی) میرے خیالوں اور یادوں میں آ کر بس گیا ہے، تب سے میری آنکھوں سے نیند اڑ گئی ہے اور دل کو ایک میٹھی سی بے کلی لگی ہوئی ہے۔ سچے عشق کا کمال ہی یہ ہے کہ انسان کو اپنے محبوب کی یاد سے ایک پل کے لیے بھی غفلت یا جدائی نصیب نہیں ہوتی اور اس کا ذہن ہر وقت اپنے مالک کی یاد میں محو رہتا ہے۔ یعنی جب روح رب کی محبت کا ذائقہ چکھ لیتی ہے، تو کائنات کی کوئی دوسری چیز یا سکون اسے اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔

فریداؔ، بندے دا کیہ بندگی، جے دل وچ کپٹ ہوئے
اوہ سجدے کیہ کم دے، جتھے دل صاف نہ ہوئے

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں عشقِ حقیقی کی انتہا اور باطنی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب سے میرا پیارا محبوب (اللہ تعالی) میرے خیالوں اور یادوں میں آ کر بس گیا ہے، تب سے میری آنکھوں سے نیند اڑ گئی ہے اور دل کو ایک میٹھی سی بے کلی لگی ہوئی ہے۔ سچے عشق کا کمال ہی یہ ہے کہ انسان کو اپنے محبوب کی یاد سے ایک پل کے لیے بھی غفلت یا جدائی نصیب نہیں ہوتی اور اس کا ذہن ہر وقت اپنے مالک کی یاد میں محو رہتا ہے۔ یعنی جب روح رب کی محبت کا ذائقہ چکھ لیتی ہے، تو کائنات کی کوئی دوسری چیز یا سکون اسے اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔

فریداؔ، سبر مندا نیک ہے، جے لوڑ سبھ کچھ جائے
سبر اندر رب وسے، آکھن والے آکھ جائیں

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں صبر اور رضا بالرضا کا فلسفہ سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انسان! انسان کے دل کے لیے صبر کا راستہ اختیار کرنا سب سے زیادہ نیک اور بہترین عمل ہے، چاہے اس صبر کو برقرار رکھنے کے لیے تمہاری دنیا کی ہر چیز (مال، رتبہ یا خواہش) ہی کیوں نہ چلی جائے یا قربان کرنی پڑ جائے۔ دانا اور عقل مند لوگ یہ بات ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ جو دل ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے، اس صابر دل کے اندر خود رب کی ذات اکر بس جاتی ہے۔ یعنی دنیا کا بڑا سے بڑا نقصان بھی برداشت کر لینا چاہیے، کیونکہ جس نے صبر پا لیا، اس نے گویا کائنات کے مالک کو پا لیا۔

فریداؔ، دنیا بھاگے مال پچھے، عاشق رب دے نال
جنہاں دل وچ عشق ہووے، اوہناں دا اعلیٰ حال

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں انسانوں کی دو الگ الگ حالتوں کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ غافل دنیا ہر وقت مال، دولت اور مادی فائدوں کے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے اور اسی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ سچے عاشق ہیں جو ہر حال میں صرف اپنے رب کی یاد اور اس کی رضا کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جن خوش نصیب لوگوں کے دلوں کے اندر رب کا سچا عشق اور محبت بیدار ہو جاتی ہے، ان کا حال (باطنی اور روحانی مرتبہ) دنیا داروں سے کہیں زیادہ اعلیٰ، برتر اور سکون والا ہو جاتا ہے۔ یعنی دنیا کی فانی دولت کے مقابلے میں عشقِ الٰہی کی تڑپ انسان کو اصل رفعت بخشتی ہے۔

فریداؔ، دنیا بھاگے مال پچھے، عاشق رب دے نال
جنہاں دل وچ عشق ہووے، اوہناں دا اعلیٰ حال

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ اس شلوک میں انسانوں کی دو الگ الگ حالتوں کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ غافل دنیا ہر وقت مال، دولت اور مادی فائدوں کے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے اور اسی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ سچے عاشق ہیں جو ہر حال میں صرف اپنے رب کی یاد اور اس کی رضا کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جن خوش نصیب لوگوں کے دلوں کے اندر رب کا سچا عشق اور محبت بیدار ہو جاتی ہے، ان کا حال (باطنی اور روحانی مرتبہ) دنیا داروں سے کہیں زیادہ اعلیٰ، برتر اور سکون والا ہو جاتا ہے۔ یعنی دنیا کی فانی دولت کے مقابلے میں عشقِ الٰہی کی تڑپ انسان کو اصل رفعت بخشتی ہے۔

فریداؔ، جے توں عقل لطیف، کالے لکھ نہ لیخ
اپنے گریبان میں سر نِیویں کر دیکھ

مجموعی مفہوم:

بابا فرید الدین گنج شکرؒ انسان کو فہم و فراست کا ایک سنہرا اصول سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انسان! اگر تو واقعی خود کو عاقل، سمجھدار اور باریک بین (عقل لطیف) سمجھتا ہے، تو دوسروں کے عیب تلاش کر کے اپنے نامہ اعمال کو کالے اکھروں یا گناہوں سے داغدار نہ کر (کالے لکھ نہ لیکھ)۔ اگر تمہیں اپنی عقل پر ناز ہے تو سب سے پہلے اپنی نظر اپنے ہی گریبان کی طرف موڑ اور اپنا سر عاجزی سے نیچا کر کے اپنے اندر چھپی خامیوں اور گناہوں کو دیکھ۔ یعنی سچی عقل مندی دوسروں پر تنقید کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا ہے، کیونکہ جو اپنے عیب دیکھ لیتا ہے وہ دوسروں پر انگلی اٹھانا چھوڑ دیتا ہے۔