download 7

Parveen Shakir

Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994

📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistan

عکس ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻮﮞ - ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ

غزل – پروین شاکر 

عکس ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻮﮞ،ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﻭﺭ ﺑِﮑﮭﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺳﻤﯿﭩﮯ ﮐﻮﺋﯽ
 
ﮐﺎﻧﭗ ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻣَﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻧﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﮯ ﮐﻮﺋﯽ
 
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺭﯾﺰﮦ ﺭﯾﺰﮦ
ﺍِﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﭨُﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮐﻮﺋﯽ
 
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺩِﻥ ﺳﮯ ﮨﺮﺍﺳﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣُﮑﻢ ﻣﻠﮯ
ﺧﺸﮏ ﭘُﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ
 
ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺷﺨﺺ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺏ ﮐﺲ ﺍُﻣﯿﺪ ﭘﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺟﮭﺎﻧﮑﮯ ﮐﻮﺋﯽ
 
ﮐﻮﺋﯽ ﺁﮨﭧ ،ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ،ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﺎﮞ ﺑﮍﯼ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ__ﺁﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ
 

مجموعی مطلب
پروین شاکر کی یہ غزل نسائی جذبات، نزاکت اور ہجر کے کرب کی ایک شاہکار عکاسی ہے۔ شاعرہ اپنی ذات کو خوشبو کے عکس سے تشبیہ دیتی ہیں، جو بکھرنا تو چاہتی ہے مگر سمٹے جانے کی خواہش نہیں رکھتی—یہ ایک ایسی آزاد منش اداسی ہے جو اپنی تنہائی میں بھی وقار رکھتی ہے۔ غزل کے اشعار میں ایک انجانا خوف بھی نمایاں ہے، جہاں وہ ڈرتی ہیں کہ کہیں ان کی آنکھوں اور چہرے سے محبوب کا نام نہ پڑھ لیا جائے، جو کہ مشرقی معاشرت میں ایک عورت کی ممتا اور حیا کی ترجمانی ہے۔ خوابوں کا ریزہ ریزہ ہونا، خشک پھولوں کا کتابوں میں محفوظ رہنا اور دل کی گلیوں کا سنسان ہونا، یہ سب وہ استعارے ہیں جو ایک ٹوٹے ہوئے دل کی مکمل کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہ غزل محبت میں ملنے والی محرومی اور اس کے بعد کی ویرانی کو نہایت خوبصورت اور دھیمے لہجے میں پیش کرتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
عکسِ خوشبوخوشبو کا عکس یا پرتو
سمیٹنااکٹھا کرنا / جمع کرنا
ریزہ ریزہٹکڑے ٹکڑے ہونا / کرچی کرچی
ہراساںخوفزدہ / ڈرا ہوا
آہٹ / چاپقدموں کی آواز
سنسانویران / جہاں کوئی نہ ہو

مزید متعلقہ پوسٹس

Ghazals of Rahat Indori
ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →