
Shair e Mashriq
📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistan“بانگِ درا”
غزل – علامہ اقبال
گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستیِ ناپائیدار دیکھ
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ
مجموعی مطلب
مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبالؔ کی یہ خوبصورت غزل صوفیانہ رنگ اور کائناتی حقیقتوں سے لبریز ہے۔ اس غزل میں اقبال انسان کو زندگی اور کائنات کو گہری اور بصیرت انگیز نظر سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کائنات (گلزارِ ہست و بود) کو کسی اجنبی یا مسافر کی طرح سرسری دیکھ کر نہ گزر جاؤ، بلکہ اس میں چھپی خدا کی نشانیاں بار بار دیکھنے کے لائق ہیں۔ انسانی زندگی کو ایک عارضی چنگاری (مثالِ شرار) سے تشبیہ دے کر وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ فانی زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، اس لیے غفلت میں وقت ضائع نہ کرو۔ غزل کے آخری حصے میں عشقِ حقیقی اور تڑپ کا کمال اظہار ہے، جہاں عاجزی سے مانا گیا ہے کہ بھلے ہی میں اس قابل نہیں کہ مجھے دیدار نصیب ہو، لیکن میری تڑپ، میرا شوق اور انتظار تو دیکھنے کے لائق ہے۔ اگر سچی طلب آنکھیں کھول دے، تو کائنات کی ہر راہ گزر میں محبوبِ حقیقی کے جلوے اور قدموں کے نشان دکھائی دینے لگتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| گلزارِ ہست و بود | کائنات، دنیا، وجود اور عدم کی محفل |
| بیگانہ وار | اجنبیوں کی طرح، بے پروائی سے |
| مثالِ شرار | چنگاری کی مانند (بہت مختصر وقت کے لیے) |
| ہستیِ ناپائیدار | ختم ہو جانے والی زندگی، فانی وجود |
| ذوقِ دید / شوقِ دیدار | دیکھنے کا شوق، دیدار کی تڑپ یا خواہش |
| نقشِ کفِ پائے یار | محبوب کے قدموں کے نشانات |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved