
Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994
📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistanغزل – پروین شاکر
کو با کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، تیرے دل کی طرح آباد ریے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی، تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتاہے
جاگ اٹھتی ہے عجب خواہش انگڑائی کی
مجموعی مطلب
پروین شاکر کی یہ غزل اردو ادب کی ان چند غزلوں میں سے ایک ہے جس کا ایک ایک شعر زبان زدِ عام ہے۔ اس غزل میں شاعرہ نے محبت کے چرچے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی سماجی رسوائی کو نہایت سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ محبوب سے علیحدگی کی بات سچ ہے، مگر اسے سرِ عام تسلیم کرنا اپنی ہی رسوائی کا باعث بنتا ہے۔ غزل کا ایک خوبصورت پہلو محبوب کے ‘ہرجائی’ پن (بے وفائی) کے باوجود اس کی واپسی پر خوش ہونا ہے، جو کہ محبت میں عورت کی بے لوث قربانی اور ظرف کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘مسیحائی’ اور ‘بدن ٹوٹنے’ جیسے استعاروں کے ذریعے انہوں نے لمس کی تاثیر اور پرانی یادوں کی شدت کو جس طرح لفظوں میں ڈھالا ہے، وہ صرف پروین شاکر کا ہی خاصہ ہے۔ یہ غزل محبت، دعا، صدمے اور یادِ ماضی کا ایک نہایت دلکش امتزاج ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کو بہ کو | گلی گلی / جگہ جگہ |
| شناسائی | واقفیت / جان پہچان |
| پزیرائی | قبول کرنا / عزت دینا / آؤ بھگت |
| ہرجائی | بے وفا / ایک جگہ نہ ٹکنے والا |
| شبِ تنہائی | جدائی یا اکیلے پن کی رات |
| تاثیرِ مسیحائی | مسیحا جیسا اثر / زخم بھر دینے والی قوت |
| بدن ٹوٹنا | تھکاوٹ یا درد محسوس ہونا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved