Untitled design 11

Mir Taqi Mir

Khuda-e-Sukhan

📅 1723 - 1810 | 📍 India

غزل -میر تقی میر

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

غزل -میر تقی میر

 یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں

مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں

یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں

معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں

بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ
چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں

مجموعی مطلب
میر تقی میر کی یہ غزل کیف و مستی اور خود فراموشی کی ایک شاہکار تصویر ہے۔ اس کلام میں شاعر نے ‘نشے’ کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جہاں وہ دنیا والوں سے التجا کرتا ہے کہ اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور اس کی باتوں کا برا نہ مانا جائے۔ غزل کے اشعار میں ایک عجیب سی بے نیازی اور درویشانہ رنگ ہے، جہاں میر کبھی دوستوں سے سہارے کی درخواست کرتے ہیں اور کبھی اپنی بے ترتیبی پر معذرت خواہ نظر آتے ہیں۔ مقطع میں میر نے اپنی ‘نازک مزاجی’ کا ذکر کر کے گویا قاری کو خبردار کیا ہے کہ اس نازک دل انسان سے الجھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ اس وقت اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ یہ غزل میر کے کلام میں موجود شوخی اور سوز کا ایک نادر سنگم ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
جامشراب کا پیالہ
قرطگھونٹ، تھوڑی سی مقدار
درہمیالجھاؤ، ابتری، بے ترتیبی
مانندِ جامِ مےشراب کے پیالے کی طرح
معذورمجبور، بے بس
بے طرحغلط طریقے سے، ٹیڑھا میڑھا
سرگراںناراض، خفا، بیزار
ٹکذرا سی دیر، تھوڑا سا
نازک مزاجحساس طبع، جلد برا ماننے والا
جوں شیشہشیشے کی طرح
منہ نہ لگوبحث نہ کرو، الجھو نہیں

مزید متعلقہ پوسٹس

اب کے ہم بچھڑے تو کبھی خوابوں میں ملیں
Ishq K pachtaye Hum To Dil Na Kisi Se Lgana Tha
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →