Adeem Hashmi 4

Mirza Ghalib

Shahenshah-e-Ghazal | 1797 - 1869

📅 1797 - 1869 | 📍 India

قطعاتِ مرزا غالبؔ

دینا کی حقیقت

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
📋

ہستی کا غم

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
ہوئی ہے بندگی بھی اب اک رسمِ زمانہ
عبادت ہو رہی ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے
📋

وجودِ خدا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاِ
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
📋

زندگی کا فلسفہ

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
📋