
Mirza Ghalib
Shahenshah-e-Ghazal | 1797 - 1869
📅 1797 - 1869 | 📍 Indiaقطعاتِ مرزا غالبؔ
دینا کی حقیقت
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
❤️ 0
📋
🔗
ہستی کا غم
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
ہوئی ہے بندگی بھی اب اک رسمِ زمانہ
عبادت ہو رہی ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے
❤️ 0
📋
🔗
وجودِ خدا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
❤️ 0
📋
🔗
زندگی کا فلسفہ
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
❤️ 0
📋
🔗