
Mufti-e-Hind
📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistanمرکزی خیال: یہ رباعیات حضور مفتیِ اعظم ہند کے دیوان “سامانِ بخشش” سے لی گئی ہیں۔ ان میں آپ نے کمالِ انکساری سے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایک مومن کا اصل سرمایہ صرف اللہ کی غفاری اور رسول اللہ ﷺ کی سچی غلامی ہے۔
بدکار ہوں مجرم ہوں سیہ کار ہوں میں
اقرار ہے اس کا کہ گنہگار ہوں میں
بایں ہمہ ناری نہیں نوری ہوں حضور
مومن ہوں تو فردوس کا حقدار ہوں میں
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سیہ کار | گنہگار / برے کام کرنے والا |
| بایں ہمہ | اس سب کے باوجود / باوجود اس کے |
| ناری | آگ کا / دوزخی |
| فردوس | جنت کا سب سے اعلیٰ باغ |
دنیا تو یہ کہتی ہے سخنور ہوں میں
سارے شعرا کا آج سرور ہوں میں
میں یہ کہتا ہوں یہ غلط ہے سو بار غلط
سچ تو ہے یہی کہ سب سے احقر ہوں میں
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سخنور | شاعر / کلام کرنے والا |
| ابتر | سب سے خراب / کمتر / عاجز |
حد بھر کا زیاں کار سیہ کار ہوں میں
امت میں بڑا سب سے گنہگار ہوں میں
پر دل کو ہے اپنے اس سے ڈھارس
فرماتا ہے اللہ کہ غفار ہوں میں
| لفظ | معنی |
|---|---|
| زیاں کار | نقصان اٹھانے والا / گناہوں میں زندگی ضائع کرنے والا |
گل ہائے ثنا سے مہکتے ہوئے ہار
سقمِ شرعی سے ہیں منزہ اشعار
دشمن کی نظر میں یہ نہ کھٹکیں کیونکر
ہیں پھول مگر ہیں چشمِ اعدا میں خار
| لفظ | معنی |
|---|---|
| گل ہائے ثنا | تعریف اور نعت کے پھول |
| سقمِ شرعی | شریعت کی غلطی یا خامی |
| منزہ | پاک / صاف (غلطیوں سے پاک) |
| چشمِ اعدا | دشمنوں کی آنکھ |
| خار | کانٹا |
ظالم ہوں جفا کار و ستم گر ہوں میں
عاصی و خطا کار بھی حد بھر ہوں میں
یہ سب ہے مگر پیارے تری رحمت سے
سُنّی ہوں مسلمان مقرر ہوں میں
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جفا کار | ظلم کرنے والا / بے وفا |
| عاصی | گنہگار / نافرمان |
| مقرر | یقینی طور پر / طے شدہ |
منظورِ نظر ہے بس ثنائے سرکار
جانِ دو جہاں کی جو ہیں سرہرکار
نورؔی کافی ہے دو جہاں میں مجھ کو
مقبول اگر ہوں ان کو میرے افکار
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ثنائے سرکار | حضور ﷺ کی نعت اور تعریف |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved