Untitled design 20

Shah Hussain

Sufi

📅 1538–1599 | 📍 Pakistan
KAFIYAN ASHAAR ROHANI HAKAYAT IMAGE SHAIRY

شاہ حسین (مادھو لال حسین)

شاہ حسین: ایک نظر میں

عنوانتفصیل
نامشاہ حسین (مادھو لال حسین)
پیدائش1538ء (لاہور)
والد کا نامشیخ عثمان (ڈھا خاندان)
مرشدشیخ بہلول دریائی
لقبلال حسین
وفات1593ء
مزار باغبانپورہ، لاہور (میلہ چراغاں)

 تعارف اور صنفِ کافی کی معراج

حضرت شاہ حسین صوفیانہ شاعری کا وہ بلند پایہ نام ہیں جن کے کلام سے صنفِ “کافی” کی پہچان وابستہ ہے۔ صوفیانہ حلقوں میں مانا جاتا ہے کہ کافی کی صنف شاہ حسین پر ختم ہو جاتی ہے۔ آپ نے 400 سال قبل جس سوز و گداز کے ساتھ کافیاں تخلیق کیں، اس کی مثال آج تک نہیں مل سکی۔

 ابتدائی حالات اور علمی مرتبہ

شاہ حسین 1538ء میں لاہور کے علاقے ٹکسالی گیٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ بچپن ہی سے انتہائی ذہین اور باصلاحیت طالب علم تھے۔

حفظِ قرآن: محض 7 سے 8 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔علمی مہارت: 20 سال کی عمر تک آپ حدیث، فقہ، منطق، فلسفہ، ریاضی اور طب (میڈیسن) کے مستند عالم بن چکے تھے۔

تلاوت کا سحر: جب آپ مسجد میں تلاوتِ قرآن کرتے تو آواز میں ایسی تاثیراور سوز ہوتا کہ پورا شہر سننے کے لیے امڈ آتا۔

 ملامتی سلسلہ: ظاہر اور باطن کا فرق

شاہ حسین کی زندگی کو سمجھنے کے لیے “ملامتی سلسلے” کو سمجھنا ضروری ہے۔ ملامتی صوفی وہ ہوتے ہیں جو اپنے نفس کو مارنے کے لیے بظاہر ایسے کام کرتے ہیں جن سے دنیا انہیں برا سمجھے، تاکہ وہ لوگوں کی واہ واہ اور شہرت کے فتنے سے بچ کر اللہ کے قریب ہو سکیں۔

  • تبدیلی کا لمحہ: 36 سال کی عمر تک آپ ایک عالمِ دین کی زندگی گزار رہے تھے، لیکن پھر آپ پر عشقِ الٰہی کی ایسی وجدانی کیفیت طاری ہوئی کہ آپ نے ظاہری وضع قطع بدل لی۔

  • ملامتی رنگ: آپ نے داڑھی اور سر منڈوا دیا، سرخ لباس پہن لیا (جس کی وجہ سے آپ لال حسین کہلائے) اور رقص و سرود کی محفلوں میں نظر آنے لگے۔ اس وجہ سے آپ پر کفر اور واجب القتل ہونے کے فتاویٰ بھی لگے، لیکن آپ اپنی مستی میں مگن رہے۔

 مادھو لال اور شاہ حسین کا رشتہ

شاہ حسین کی زندگی کا ایک اہم باب “مادھو” نامی ایک برہمن لڑکے سے ان کی عقیدت ہے۔

  • عشقِ حقیقی کا آئینہ: شاہ حسین کا مادھو سے رشتہ ظاہری نہیں بلکہ روحانی تھا۔ آپ فرماتے تھے: “میں تجھ میں اس (اللہ) کو دیکھتا ہوں جس نے تجھے بنایا ہے”۔

  • نام کی پہچان: آپ کی مادھو سے اس قدر نسبت مشہور ہوئی کہ آپ کا نام ہی “مادھو لال حسین” پڑ گیا اور آج بھی لاہور میں ان دونوں کے مزارات ایک ہی احاطے میں موجود ہیں۔

صوفیانہ رقص اور دھمال کی حقیقت

شاہ حسین کے کلام میں رقص اور وجد کی کیفیت نمایاں ہے۔ صوفیاء کے نزدیک رقص محض ناچنا نہیں بلکہ کائنات کی لہروں (Vibrations) کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔ جب اللہ کا نور انسانی وجود پر پڑتا ہے تو روح وجد میں آ جاتی ہے۔ شاہ حسین کی دھمال دراصل “عشقِ الٰہی” کا اظہار تھی۔

 وفات اور مزار (میلہ چراغاں) 

شاہ حسین کا انتقال 1593ء میں ہوا۔ آپ کا مزار لاہور میں باغبانپورہ (شالامار باغ کے قریب) واقع ہے۔ آپ کی یاد میں ہر سال “میلہ چراغاں” منایا جاتا ہے، جو لاہور کی قدیم ثقافت اور صوفیانہ عقیدت کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔

 کلام کا جوہر 

شاہ حسین کی پوری شاعری میں سوائے توحید، عشقِ الٰہی، عاجزی اور محبت کے کچھ نہیں ملتا۔ ان کا مشہورِ زمانہ کلام ہے:

ربا میرے حال دا محرم تُوں

اندر تُوں ہیں، باہر تُوں ہیں، روم روم وچ تُوں

تُوں ہیں تانا، تُوں ہے بانا، سب کچھ میرا تُوں