Untitled design 20

Shah Hussain

Sufi

📅 1538–1599 | 📍 Pakistan

کلام - شاہ حسین فقیر

کلام - شاہ حسین فقیر
ناہیں میں، ناہیں میں، سبھ کجھ تیرا
تُوں ہیں اندر، تُوں ہیں باہر، ہر دم نام سویرا
Naheen main, naheen main, sab kujh tera, Tu hain andar, tu hain bahar...
تشریح: یہ سراسر عاجزی اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے کہ میری اپنی کوئی حیثیت نہیں، سب کچھ اللہ ہی ہے۔
📋 کاپی
کلام - شاہ حسین فقیر
سجناں بولن دی جاہ نہیں
اندر باہر اکو سائیں، کس نوں آکھ سنائیں
Sajnan bolan di jah naheen, andar bahar ikko saine...
تشریح: محبوب (اللہ) کے سامنے لفظوں کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ تو آپ کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔
📋 کاپی
کلام - شاہ حسین فقیر
عاشق ہوویں تاں عشق کماویں، راہ عشق دا سوئی دا نکا
دھاگہ ہوویں تاں نکل جاویں، جے ہوویں ہاتھی کدی نہ جاویں
Aashiq hovein tan ishq kamavein, rah ishq da sui da naka...
تشریح: عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ جتنا باریک ہے۔ اس سے گزرنے کے لیے اپنی انا (ہاتھی) کو ختم کر کے عاجزی (دھاگہ) اختیار کرنی پڑتی ہے۔
📋 کاپی
کلام - شاہ حسین فقیر
شاہ حسین فقیر سائیں دا، مرناں ہن تیں تھوڑا
رین وسے، جیویں رات دی، پاہیں تیں پاہیں تھوڑا
Shah Hussain faqeer saine da, marnan hun tain thora...
تشریح: زندگی کی حقیقت رات کی اوس (شبنم) کی طرح ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتی ہے۔ ہمیں ہر وقت اپنی ابدی منزل کی فکر کرنی چاہیے۔
📋 کاپی
کلام - شاہ حسین فقیر
دُنیا فانی، مالُ فانی، فانی ہے سبُ مایا
صاحب دے ہتھ ڈور اساڈی، جیویں چاہے تیویں لایا
Duniya fani, maal fani, fani hai sab maya...
تشریح: یہ دنیا اور اس کی دولت سب ختم ہو جانے والی چیزیں ہیں۔ ہماری زندگی کا مکمل اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
📋 کاپی
کلام - شاہ حسین فقیر
جو کُجھ کیتیا سو کُجھ پائیا، ایہو نیکی بد بدی دا
کہے حسین فقیر سائیں دا، ٹھور ٹھکانا جدی دا
Jo kujh keetiya so kujh paaya, eho neki bad badi da...
تشریح: انسان جو عمل کرتا ہے وہی اسے ملتا ہے۔ نیکی کا بدلہ نیکی اور بدی کا بدی ہے۔ ہمارا اصل ٹھکانہ ہمیشہ رہنے والی اللہ کی ذات ہے۔
📋 کاپی