
Shair e Mashriq
📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistanغزل – علامہ اقبال
تسکین نہ ہو جس میں وہ راز بدل ڈالو
جو راز نہ رکھ پائے ہمراز بدل ڈالو
تم نے بھی سنی ہو گی بڑی عام کہاوت ہے
انجام کا ہو خطرہ آغاز بدل ڈالو
پرسوز دلوں کو جو مسکان نہ دے پائے
سر ہی نہ ملے جس میں وہ ساز بدل ڈالو
دشمن کے ارادوں کو ہے ظاہر اگر کرنا
تم کھیل وہی کھیلوں انداز بدل ڈالو
اے دوست کر و ہمت کچھ دور سویرا ہے
گر چاہتے ہو منزل تو پرواز بدل ڈالو
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تسکین | سکون / اطمینان |
| ہمراز | راز جاننے والا سچا دوست |
| انجام | نتیجہ / آخر |
| پرسوز | درد بھرا / اثر رکھنے والا |
| ساز | موسیقی کا آلہ / وسیلہ |
| ظاہر | عیاں / کھلا ہوا |
| پرواز | اڑان / سوچ کی بلندی |