Untitled design 1

Allama Iqbal

Shair e Mashriq

📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistan

Allama Iqbal Ke Ashaar

شاہین اور پرواز

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

معنی: نشیمن: گھر | قصرِ سلطانی: بادشاہ کا محل
📋 Copy

اُمید اور مایوسی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

معنی: کشتِ ویراں: بنجر زمین | زرخیز: اناج اگانے والی
📋 Copy

ستاروں سے آگے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

معنی: امتحاں: آزمائشیں
📋 Copy

عمل کی حکمت

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

معنی: خاکی : (مٹی سے بنا انسان) | نوری: (فرشتہ)| ناری : (آگ والا/شیطان)
📋 Copy

پرواز ہے دونوں کیِ

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

معنی: گدھ : پستی، بزدلی | شاہین: بہادری
📋 Copy

پرواز ہے دونوں کیِ

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

معنی: خرد : عقل | لا الہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
📋 Copy

دینا کی حقیقتِ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

معنی: نرگس : ایک پھول | دیدہ ور : گہری نظر رکھنے والا/عقل مند
📋 Copy

سبق

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

معنی: صداقت : سچائی | شجاعت :بہادری |امامت : قیادت/رہبری
📋 Copy

اقبال اور عشق

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

معنی: آتشِ نمرود : نمرود کی آگ | محوِ تماشا : منظر دیکھنے میں مگن
📋 Copy

عمل

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

معنی: معنی: خاکی: مٹی کا بنا انسان | ناری: آگ والا شیطان
📋 Copy

ستاروں سے آگے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

معنی: امتحاں: آزمائشیں
📋 Copy