مجھے تم یاد آتے ہو – کہیں کوئی سمندر ہو- کہیں کوئی کنارہ ہو

مجھے تم یاد آتے ہو کہیں کوئی سمندر ہو کہیں کوئی کنارہ ہو کہیں قدرت کا مناظرکا کوئی دلکش نظارہ ہو کہیں بھیگے سے بادل نے کوئی موسم سنوارہ ہو کوئی سمندر سا موتی ہو کوئی روشن سا ستارہ ہو…

مجھے تم یاد آتے ہو کہیں کوئی سمندر ہو کہیں کوئی کنارہ ہو کہیں قدرت کا مناظرکا کوئی دلکش نظارہ ہو کہیں بھیگے سے بادل نے کوئی موسم سنوارہ ہو کوئی سمندر سا موتی ہو کوئی روشن سا ستارہ ہو…

دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار…

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو…