دیکھ کر دل کشی زمانے کی – آرزو ہے فریب کھانے کی- عبدالحمید عدمadminOctober 6, 2025Ghazal دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار کروں رات ہے مشعلیں جلانے کی کس نے ساغر عدمؔ بلند کیا تھم گئیں گردشیں زمانے کی Previous Post دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا , وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا Next Post مجھے تم یاد آتے ہو - کہیں کوئی سمندر ہو- کہیں کوئی کنارہ ہو