
Sufi
📅1188 - 1266 | 📍 Pakistanشلوک – بابا فرید گنج شکر
فریدہ کالے مینڈے کپڑے، کالا مینڈا ویش۔
گناہیں بھریا میں پھراں، لوک کہن درویش۔
تتی توئ نا پلکّے، جے مینڈا سائیں کرے پیار۔
فریدہ خاک نہ نندئے، خاک جیڈ نہ کوئ۔
جیوندیاں پیریں تلے، موئیاں اوپر ہوئ۔
اس کلام میں عاجزی کی انتہا ہے۔ بابا فریدؒ فرماتے ہیں کہ میرا لباس اور میرا ظاہر کالا (درویشوں جیسا) ہے، لیکن میرا باطن گناہوں سے بھرا ہوا ہے؛ لوگ مجھے باہر سے دیکھ کر درویش کہتے ہیں جبکہ میں اندر سے گنہگار ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرا سائیں (اللہ) مجھ سے محبت کرے تو دنیا کی کوئی مصیبت (تتی توئ) میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آخر میں وہ مٹی (خاک) کی مثال دیتے ہیں کہ مٹی کو کبھی حقیر نہ سمجھو، اس سے بڑھ کر کوئی صابر نہیں؛ جب انسان زندہ ہوتا ہے تو یہ مٹی اس کے پیروں تلے روندی جاتی ہے، اور جب وہ مر جاتا ہے تو یہی مٹی اس کے اوپر آ کر اسے پناہ دیتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مینڈے | میرے |
| ویش | بھیس، لباس، حلیہ |
| تتی توئ | تپتا ہوا تووا، گرم زمین، مصیبت |
| نندئے | نِندیا کرنا، برا بھلا کہنا، حقیر سمجھنا |
| جیڈ | جتنا، برابر |
| موئیاں | مرنے کے بعد |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved