
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
عشق تو بن رسوائیِ عالم باعث ہے رسوائی کا
میلِ دلی اس خودسر سے ہے جو مائل ہے خدائی کا
ہے جو سیاہی جرم قمر میں اس کے سوا کچھ اور نہیں
داغ ہے مہ کا آئینہ اس سطح رُخ کی صفائی کا
نزع میں میرے حاضر تھا پر آنکھ نہ ایدھر اس کی پڑی
داغ چلا ہوں اس میں جہاں سے یار کی بے پروائی کا
کوشش میں سر مارا لیکن یار کے در پر جا نہ سکا
تن پہ زبان شکر ہے ہر مو اپنی شکستہ پائی کا
رنگ سراپا اس کا ہوا لے آگے دل خوں کرتی رہی
اب جگر یک لختِ افسردہ اس کے دستِ حنائی کا
آنا سن ناداری سے ہم نے جی دینا ٹھہرایا ہے
کیا کہیے اندیشہ بڑا تھا اس کی منھ دکھلائی کا
کوفت میں ہے ہر عضو اس کا جوں عضو ازجا رفتہ میر
جو کشتہ ہے ظلم رسیدہ اس کے دردِ جدائی کا
Like and Share
معنی
لفظ
دنیا بھر میں بدنام ہونا
اپنی مرضی کرنے والا، ضدی (مراد محبوب)
راغب ہونا، جھکاؤ رکھنا
پنی ہی رائے پر چلنا، خود پسندی
چاند کی محفل
سورج کا آئینہ (مراد بہت روشن)
بلندی، اونچائی
توجہ نہ دینا، بے نیازی
گرم آہ یا گرم نالہ و فریاد
مہندی لگے ہوئے ہاتھ
غریبی، مفلسی
پہلی بار چہرہ دیکھنے کی رسم یا قیمت
دکھ، تکلیف، رنج
مرا ہوا، قربان ہونے والا (عشق کا مارا ہوا)
رسوائیِ عالم
خودسر
مائل
خودرائی
بزمِ قمر
مہر کا آئینہ
اوج
بے پروائی
تپا نالہ
دستِ حنائی
اداری
منھ دکھلائی
کوفت
کشتہ
خلاصہ: میر تقی میر اس غزل میں اپنی بے بسی اور محبوب کی بے نیازی کا ذکر کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ محبوب اتنا خوبصورت ہے کہ سورج بھی اس کے سامنے ماند پڑ جائے، لیکن وہ اتنا خود پسند ہے کہ عاشق کی تکلیف کی پرواہ نہیں کرتا۔