
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 India
تھا عجب اک سماں خوشی کا وہاں
ایک مورنی تھی خوش خرام وہاں
چلبلی سی، وہ نازنین تھی ایک
گلشنِ دہر میں وہ حور تھی ایک
جب وہ چلتی تو قیامت آتی
دیکھنے والوں کو نہ فرصت آتی
ابر آیا ہے جھوم کر اب کے
مینہ برستا ہے رات بھر اب کے
ہر طرف سبزہ زار ہے گویا
باغِ جنت بہار ہے گویا
ژالہ باری کا وہ سماں دیکھو
قدرتِ حق کا یہ نشاں دیکھو
ایک مرغ تھا نہایت ہی کڑکا
جس کے غصے سے ہر کوئی دھڑکا
رنگ اس کا تھا سرخ و سفید
رستمِ وقت تھا وہ، بے تردید
اپنی چونچوں سے کام لیتا تھا
سب کو وہ زیر کر ہی دیتا تھا
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved