
Mir Taqi Mir
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaمیر تقی میر کی مثنویات
مثنوی: مورنی کی تعریف
تھا عجب اک سماں خوشی کا وہاں
ایک مورنی تھی خوش خرام وہاں
چلبلی سی، وہ نازنین تھی ایک
گلشنِ دہر میں وہ حور تھی ایک
جب وہ چلتی تو قیامت آتی
دیکھنے والوں کو نہ فرصت آتی
مثنوی: برسات کا نقشہ
ابر آیا ہے جھوم کر اب کے
مینہ برستا ہے رات بھر اب کے
ہر طرف سبزہ زار ہے گویا
باغِ جنت بہار ہے گویا
ژالہ باری کا وہ سماں دیکھو
قدرتِ حق کا یہ نشاں دیکھو
مثنوی: مرغ بازی
ایک مرغ تھا نہایت ہی کڑکا
جس کے غصے سے ہر کوئی دھڑکا
رنگ اس کا تھا سرخ و سفید
رستمِ وقت تھا وہ، بے تردید
اپنی چونچوں سے کام لیتا تھا
سب کو وہ زیر کر ہی دیتا تھا