images 7

Mir Taqi Mir

Khuda-e-Sukhan

📅 1723 - 1810 | 📍 India

Mir Taqi Mir Ke Ashaar

ہستی اور سراب

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

📋

نازکیِ لب

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

📋

پتا پتا بوٹا بوٹا

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

📋 Copy

سرہانے میر کے

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

📋

چراغِ مفلس

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

📋

فقیرانہ صدا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

📋

نیم باز آنکھیں

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ी مستی شراب کی سی ہے

📋 Copy

مرگ اور ماندگی

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

📋 Copy