
Mir Taqi Mir
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 IndiaMir Taqi Mir Ke Ashaar
ہستی اور سراب
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
❤️ 0
📋
🔗
نازکیِ لب
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
❤️ 0
📋
🔗
پتا پتا بوٹا بوٹا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
❤️ 0
📋 Copy
🔗 Share
سرہانے میر کے
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
❤️ 0
📋
🔗
چراغِ مفلس
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
❤️ 0
📋
🔗
فقیرانہ صدا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
❤️ 0
📋
🔗
نیم باز آنکھیں
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ी مستی شراب کی سی ہے
❤️ 0
📋 Copy
🔗 Share
مرگ اور ماندگی
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
❤️ 0
📋 Copy
🔗 Share