
Sufi
📅 1680 - 1757 | 📍 Pakistanبابا بلھے شاہ جب اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے پہلی بار ملے، تو مرشد پودے لگا رہے تھے۔ بلھے شاہ نے پوچھا: “رب کیسے ملتا ہے؟” مرشد نے فرمایا: “بلھیا! رب دا کیہ پاؤنا، ایدھروں پلٹنا تے اودھر لاؤنا”۔ یعنی دل کو دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف لگا دینا ہی اصل منزل ہے۔
بلھے شاہ ایک معزز سید گھرانے سے تھے، مگر انہوں نے اپنے مرشد (جو ایک باغبان تھے) کی خاطر اپنی انا کو مٹا دیا۔ جب خاندان نے طعنہ دیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے خود کو مرشد کے رنگ میں رنگ لیا ہے، اب میرا کوئی حسب نسب نہیں، میں صرف اپنے یار کا ہوں۔
جب مرشد ناراض ہوئے، تو بلھے شاہ نے گھنگھرو باندھ کر رقص سیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ مرشد کو رقص اور کلام پسند ہے۔ برسوں کی محنت کے بعد جب انہوں نے مرشد کے سامنے گایا، تو شاہ عنایت نے انہیں گلے سے لگا لیا اور فرمایا: “توں بلھا نہیں، توں اللہ ایں” (یعنی تم اللہ کے نور میں فنا ہو گئے ہو)۔