
Sufi
📅 1830 – 1907 | 📍 Pakistanمیاں محمد بخشؒ کی سب سے مشہور کتاب “سیف الملوک” ہے۔ بظاہر یہ مصر کے ایک شہزادے “سیف الملوک” اور ایک پری “بدیع الجمال” کی عشق کی داستان ہے، جس میں شہزادہ اپنی محبت کو پانے کے لیے دنیا بھر کی مہم جوئی کرتا ہے، باغوں، صحراؤں اور جادوئی جزیروں کا سفر کرتا ہے اور عقل کو حیران کر دینے والی مصیبتوں کا سامنا کرتا ہے۔
میاں صاحب نے اس قصے کو صرف ایک کہانی کے طور پر نہیں لکھا، بلکہ اس کے ذریعے تصوف کا ایک بہت بڑا راز سمجھایا ہےکہ
شہزادہ سیف الملوک: اصل میں “انسان کی روح ہے جو دنیا میں آئی ہے۔
پری بدیع الجمال: اصل میں حقیقی حسن” ہے۔
راستے کی مصیبتیں اور جادوگر: یہ دنیا کی عارضی آسائشیں، نفس کی خواہشات اور شیطان کی رکاوٹیں ہیں
میاں صاحب فرماتے ہیں کہ جس طرح شہزادہ تمام خطرات کا سامنا کر کے، سب کچھ قربان کر کے آخر کار اپنی منزل (پری) کو پا لیتا ہے، اسی طرح انسان کی روح کو بھی اگر اپنے حقیقی محبوب (اللہ پاک) کو پانا ہے، تو اسے نفس کی خواہشات کو مارنا ہوگا، صبر کرنا ہوگا اور ہر حال میں اپنے عشقِ حقیقی پر قائم رہنا ہوگا۔ یہ داستان انسان کو سکھاتی ہے کہ سچی لگن اور مستقل مزاجی سے خدا کو پایا جا سکتا ہے۔
میاں محمد بخشؒ اپنے کلام میں ایک اور خوبصورت تمثیل (حکایت) بیان کرتے ہیں، جس میں وہ ایک قفس (پنجرے) میں بند طوطے اور آسمان میں اڑنے والے باز کی مثال دیتے ہیں۔
طوطا پنجرے کے اندر میٹھے پھل اور پانی پا کر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہی اس کی کل کائنات اور زندگی کا سکون ہے۔ دوسری طرف باز آزاد آسمانوں کا راجہ ہے، جو طوفانوں سے لڑتا ہے اور اونچی اڑان بھرتا ہے۔
میاں صاحب اس کے ذریعے انسان کو جھنجھوڑتے ہیں
پنجرے کا طوطا: وہ انسان ہے جو اس عارضی دنیا کے آرام، مال و دولت اور عیش و عشرت میں مگن ہو کر اپنے اصل مقصد کو بھول چکا ہے اور اس قید کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔
آزاد باز: وہ “مردِ مومن” یا “صوفی” ہے جو دنیا کی قید سے آزاد ہو کر معرفتِ الٰہی کی اونچی اڑان بھرتا ہے اور دنیا کی رنگینیوں میں دل نہیں لگاتا۔
میاں صاحب کا پیغام ہے کہ انسان کو پنجرے کا طوطا بننے کے بجائے اپنی روح کو آزاد کر کے باز کی طرح بلند پرواز بننا چاہیے، کیونکہ یہ دنیا ایک قید خانہ ہے اور اصل منزل آخرت اور رضائے الٰہی ہے۔
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved