
Sufi
📅 1680 - 1757 | 📍 Pakistanکافی – بابا بلھے شاہ
کافی – بابا بلھے شاہ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
تیرے عشق نے ڈیرا، میرے اندر کیتا
بھر کے زہر پیالہ، میں تاں آپے پیتا
جھبدے بوہڑیں وے طبیبا، نہیں تاں میں مر گئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
چھپ گیا وے سُورج، باہر رہ گئی آ لالی
وے میں صدقے ہوواں، دیویں مُڑ جے وکھالی
پیرا! میں بُھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
ایس عشقے دے کولوں، مینوں ہٹک نہ مائے
لاہُو جاندڑے بیڑے، کیہڑا موڑ لیائے
میری عقل جو بُھلّی، نال مہانیاں دے گئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بولیندا
سانوں قبلہ تے کعبہ، سوہنا یار دسیندا
سانوں گھائل کر کے، پھیر خبر نہ لئی آ
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
بُلھّا شَوہ نے آندا، مینوں عنایت دے بُوہے
جس نے مینوں پوائے ، چولے ساوے تے سُوہے
جاں میں ماری ہے اَڈّی، مِل پیا ہے وہیّا
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
اس کافی میں بابا بُلھے شاہ عشقِ الٰہی (اور اپنے مرشد شاہ عنایت) کی اس کیفیت کا ذکر کر رہے ہیں جس میں انسان اپنی عقل، ہوش اور سماجی رتبے کو بھول کر رقص کرنے لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرے عشق نے میرے اندر ایسا ڈیرہ ڈالا ہے کہ میں نے خود ہی زہر کا پیالہ (دنیا کی تلخیاں اور نفس کا قتل) پی لیا ہے۔ وہ اپنی ماں (یا عقلِ مصلحت بین) سے کہتے ہیں کہ مجھے اس عشق سے نہ روکو، کیونکہ جس کشتی کا ملاح ہی بدل گیا ہو اسے اب کون موڑ سکتا ہے؟ ان کے لیے ان کا یار (مرشد/خالق) ہی قبلہ و کعبہ ہے۔ آخر میں وہ فرماتے ہیں کہ جب وہ مرشد کے در پر پہنچے تو انہیں نئی زندگی (ساوے اور سوہے چولے/رنگین کپڑے) ملی اور ان کی منزل انہیں مل گئی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تھیا تھیا | رقص کی تال / وجدان میں جھومنا |
| جھبدے بوہڑیں | جلدی آؤ / فوراً مدد کو پہنچو |
| وکھالی | دیدار / جھلک دکھانا |
| ہٹک نہ | منع نہ کر / نہ روک |
| لاہو جاندڑے بیڑے | گرداب میں پھنسی ہوئی کشتیاں |
| مہانیاں | ملاح / کشتی چلانے والے |
| جھنگی | چھوٹا جنگل یا جھاڑیوں والا حصہ |
| گھائل | زخمی (مراد: عشق میں زخمی) |
| ساوے تے سوہے | سبز اور سرخ (خوشی اور عروسی کے رنگ) |
| وہیّا | محبوب / مطلوبہ منزل |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved