کلام - وصی شاہ
بہت رنجور ہونا بھی، بہت مجبور ہونا بھی
کبھی شب بھر نہ سونا بھی، بہت بے نور ہونا بھی

کسی کے پاس ہونا بھی، کسی سے دور ہونا بھی
بہت نزدیک ہونا بھی، بہت مہجور ہونا بھی

اکیلا بیٹھ کر ہنسنا، اکیلا بیٹھ کر رونا
وصی ایسا بھی ہوتا ہے جب آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
Bohat ranjoor hona bhi, bohat majboor hona bhi...
تشریح: اس غزل میں انسانی جذبوں کی متضاد کیفیات بیان کی گئی ہیں، کہ کیسے انسان خوشی اور غم کے درمیان تنہا رہ جاتا ہے۔
📋 کاپی

مزید متعلقہ پوسٹس

شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
اب کے رُت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
اب کے  تجدیدِ  وفا  کا نہیں امکاں  جاناں
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →