download 10

Faiz Ahmed Faiz

Shair-e-Inqilab

📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan

 غزل -فیض احمد فیض

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے

غزل- فیض احمد فیض

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یار وصبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سر کا کل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب
گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

مجموعی مطلب
یہ غزل فیض احمد فیض کی فنی مہارت کا بہترین ثبوت ہے۔ مطلع میں وہ بہار کو محبوب کی آمد سے مشروط کرتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک محبوب کے بغیر گلشن کا کوئی رنگ معتبر نہیں ہے۔ غزل کا مقطع (آخری شعر) ان کے انقلابی نظریات کی ترجمانی کرتا ہے کہ سچے عاشق اور انقلابی کے لیے محبوب کی گلی سے نکلنے کے بعد اگلی منزل ‘دار’ (سولی) ہی ہوتی ہے۔ یہ غزل ذاتی غم کو اجتماعی اور سیاسی غم میں بدلنے کے اس ہنر کو بیان کرتی ہے جو صرف فیض کا خاصہ ہے۔

Copy 📋

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
بادِ نو بہارنئی بہار کی ہوا
کنجِ لبلبوں کا گوشہ / کنارہ
مشکبارخوشبو سے بھرا ہوا
غم گسارہمدرد / غم بانٹنے والا
دفترِ جنونعشق کا رجسٹر / دیوانگی کا حساب
گرہ میں لیناپلے باندھنا / ساتھ لے جانا
سوئے دارپھانسی کے گھاٹ کی طرف

مزید متعلقہ پوسٹس

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
آدمی وقت پر گیا ہوگا – جون ایلیا
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →