Untitled design 7

Ahmad Faraz

Shair-e-Romance

📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistan

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں

اب کے تجدیدِ وفا کا

غزل – احمد فراز

اب کے  تجدیدِ  وفا  کا نہیں امکاں  جاناں
 یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں
 
یونہی  موسم  کی ادا دیکھ  کے یاد  آیا
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
 
دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہو  افسردہ وہ بھی
دل کی کیا بات کریں ، دل تو ہے ناداں جاناں
 
جس کو دیکھو وہی زنجیر پا با لگتا ہے
شہر کا  شہر  ہوا  داخل  زنداں جاناں
 
اب تیرا زکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور  ہوا  درد  کا  عنواں  جاناں

مجموعی مطلب

شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اب وفا کے عہد کو دوبارہ تازہ کرنے کا کوئی امکان نہیں رہا۔ تمہارے وعدے یاد دلانے کا بھی کیا فائدہ، کیونکہ حالات بدل چکے ہیں۔ موسموں کی تبدیلی دیکھ کر انسانوں کی بدلتی ہوئی فطرت یاد آ جاتی ہے کہ لوگ کتنی جلدی اپنے رویے اور وعدے بدل لیتے ہیں۔

شاعر کا دل کہتا ہے کہ شاید محبوب بھی کسی غم میں مبتلا ہو، لیکن دل کی بات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دل اکثر خوش فہمیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ پھر شاعر معاشرے کی تصویر کھینچتا ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی مجبوری، پابندی یا قید میں جکڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، گویا پورا شہر ایک زندان بن گیا ہو۔

آخر میں شاعر کہتا ہے کہ اب محبوب کا ذکر بھی شاید اس کی غزلوں میں نہ آئے، کیونکہ اس کے درد نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کی زندگی کے غموں کا موضوع اب پہلے سے مختلف ہو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
تجدیدِ وفاوفا کے عہد کو دوبارہ تازہ کرنا
امکاںامکان، امید
پیماںوعدہ، عہد
افسردہغمگین، اداس
ناداںبے خبر، سادہ لوح
زنجیر پاپاؤں میں پڑی ہوئی زنجیر
پاباجکڑا ہوا، بندھا ہوا
زنداںقید خانہ، جیل
عنواںعنوان، موضوع

مزید متعلقہ پوسٹس

Ghazals Alama Iqbal
پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں، کوئی نہیں
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →