
Shair-e-Romance
📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistanغزل – احمد فراز
مجموعی مطلب
شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اب وفا کے عہد کو دوبارہ تازہ کرنے کا کوئی امکان نہیں رہا۔ تمہارے وعدے یاد دلانے کا بھی کیا فائدہ، کیونکہ حالات بدل چکے ہیں۔ موسموں کی تبدیلی دیکھ کر انسانوں کی بدلتی ہوئی فطرت یاد آ جاتی ہے کہ لوگ کتنی جلدی اپنے رویے اور وعدے بدل لیتے ہیں۔
شاعر کا دل کہتا ہے کہ شاید محبوب بھی کسی غم میں مبتلا ہو، لیکن دل کی بات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دل اکثر خوش فہمیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ پھر شاعر معاشرے کی تصویر کھینچتا ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی مجبوری، پابندی یا قید میں جکڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، گویا پورا شہر ایک زندان بن گیا ہو۔
آخر میں شاعر کہتا ہے کہ اب محبوب کا ذکر بھی شاید اس کی غزلوں میں نہ آئے، کیونکہ اس کے درد نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کی زندگی کے غموں کا موضوع اب پہلے سے مختلف ہو چکا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تجدیدِ وفا | وفا کے عہد کو دوبارہ تازہ کرنا |
| امکاں | امکان، امید |
| پیماں | وعدہ، عہد |
| افسردہ | غمگین، اداس |
| ناداں | بے خبر، سادہ لوح |
| زنجیر پا | پاؤں میں پڑی ہوئی زنجیر |
| پابا | جکڑا ہوا، بندھا ہوا |
| زنداں | قید خانہ، جیل |
| عنواں | عنوان، موضوع |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved