
Mohabbat ka Shaair
📅 1973 - tahal | 📍 Pakistanغزل – وصی شاہ
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
اس کے سائے میں مرے خواب دہک اٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اس قدر برسو مری روح میں جل تھل کر دو
جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے جل تھل کر دو
تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کر دو
اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اس کو مسلسل کر دو
مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں
اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
مجموعی مطلب
وسی شاہ کی یہ غزل محبت میں مکمل فنا ہو جانے اور خود کو محبوب کے حوالے کر دینے کی ایک خوبصورت پکار ہے۔ شاعر اپنی ادھوری زندگی کو محبوب کے لمس اور قربت سے مکمل کرنے کی خواہش کرتا ہے۔ اس کلام میں “دھوپ”، “صحرا” اور “جنگل” جیسے استعاروں کے ذریعے اپنی تنہائی اور تڑپ کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ محبوب کی چاہت کو وہ “بارش” اور “صندل” کی خوشبو سے تشبیہ دیتا ہے جو اسے تازگی اور سکون عطا کر سکتی ہے۔ یہ غزل جذبوں کی اس انتہا کو چھوتی ہے جہاں عاشق اپنے دکھوں کو بھی محبوب کی عطا سمجھ کر اپنانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| صندل | ایک خوشبودار لکڑی |
| دہک اٹھنا | روشن ہونا / چمکنا |
| جل تھل | پانی سے بھرا ہوا (مراد سیراب کرنا) |
| اوجھل | نظروں سے دور / چھپا ہوا |
| مسلسل | لگاتار / ہمیشہ کے لیے |
| ذات | اپنا وجود / ہستی |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved