wasi shah

Wasi Shah

Mohabbat ka Shaair

📅 1973 - tahal | 📍 Pakistan

غزل - وصی شاہ

میرے ہو کے رہو

غزل – وصی شاہ

تم میرے درد بھی، غم بھی، میرے آلام بھی تم
تم مرا چین ہو جاناں ، میرا آرام بھی تم

کامیابی کو نہیں ہم نے تمہیں چاہا ہے
ہم تمہارے ہیں پھلے ہو گئے ناکام بھی تم

میں مسیحا ہوں اگر، میرا وظیفہ تم ہو
میں ہوں مجرم تو میری جاں میرا الزام بھی تم

مختلف حیلوں بہانوں سے مجھے سوچتے ہو
ایک دن کھل کے پکارو گے میرا نام بھی تم

رات دن تم کو فقط تم کو مجھے سوچنا ہے
میری فرصت بھی تمہی اور میرا کام بھی تم

جس سے روشن مرا آنگن ہے تمہی ہو وہ چراغ
سچ تو یہ ہے کہ تمہی گھر ہو در و بام بھی تم

یہ سیاست بھی عجب کھیل ہے بھولے پنچھی
یہاں صیاد بھی تم ہو تی دام بھی تم

مجموعی مطلب
وسیم بریلوی کی اس غزل میں محبت کی ہمہ گیریت کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر سکون اور ہر بے چینی صرف اسی کی ذات سے جڑی ہے۔ وہ اسے اپنا مسیحا بھی مانتا ہے اور اپنی ناکامیوں کا مرکز بھی۔ غزل کے اشعار میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ محبت صرف کامیابی کا نام نہیں، بلکہ ہر حال میں محبوب کا ہو کر رہ جانا ہی اصل عشق ہے۔ آخری شعر میں وہ بڑی خوبصورتی سے سماجی اور سیاسی پہلو کو بھی چھوتے ہیں، جہاں صیاد اور جال کے استعارے سے دنیا کی چالاکیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
آلامدکھ / تکلیفیں (الم کی جمع)
وظیفہورد کرنا / بار بار دہرایا جانے والا نام
حیلوں بہانوںحیلہ سازی / مختلف طریقوں سے
در و بامدروازہ اور چھت (مراد پورا گھر)
صیادشکاری
دامجال

مزید متعلقہ پوسٹس

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں
افلاک پہ سجتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →