hazrat sultan bahoo nayab shairy

Hazrat Sultan Bahoo

Sufi Bazurg

📅 1630–1691 | 📍 Pakistan

Dunya Ki Haqeeqat Aur Zuhd — Abyaat Hazrat Sultan Bahoo

(2- ابیات)

الف اللہ پڑھیاں پڑھ حافظ ہویوں، ناں گیا حجابوں پڑدا ھُو

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں،  پر طالب ہویوں زَر دا ھُو

سَے ہزار کتاباں پڑھیاں، پر ظالم نفس نہ مَردا ھُو

باجھ فقیراں کسے نہ ماریا ایہہ ظالم چور اندر دا ھُو

 

اردو مفہوم

ظاہری علم پڑھ پڑھ کر تم حافظ تو بن گئے لیکن تمہارے باطن سے غفلت کا parda (حجاب) نہیں گیا؛ پڑھ پڑھ کر بڑے عالم اور فاضل تو بنے لیکن دل میں دنیا کی دولت (زَر) کی لگی رہی؛ تم نے سینکڑوں ہزاروں کتابیں پڑھ لیں مگر یہ ظالم نفس (غرور و لادینیت) پھر بھی نہ مرا؛ یاد رکھو کہ اللہ والے کامل فقیروں کے بغیر اس اندر کے ظالم چور (نفس) کو آج تک کوئی نہیں مار سکا۔

(10- ابیات)

الف ادھی لعنت دُنیا تائیں، تے ساری دُنیا داراں ھُو

جیں راہ صاحب دے خرچ نہ کیتی، لین غضب دیاں ماراں ھُو

پیوواں کولوں پُت کواہے، بھٹ دُنیا مکاراں ھُو

جنہاں ترک دُنیا کیتی باھُوؒ، لیسن باغ بہاراں ھُو

 

اردو مفہوم

ہماری اصل نماز تو دل کے اندر (باطن میں) قائم ہے، جسے ہم نے عشق کی ایسی جگہ نیت رکھی (نیتوِسے) ہے جہاں دنیا کا کوئی خیال نہیں آتا؛ ہم ظاہر میں بھی قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ اس نماز کی تکرار کرتے ہیں؛ ہمارا یہ دل اللہ کے ہجر اور فراق میں اس طرح تڑپتا ہے کہ نہ یہ مرتا ہے اور نہ سکون سے جیتا ہے؛ اور سچا راستہ صرف حضرت محمد ﷺ کا راستہ ہے جس پر چل کر رب کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔

 

(11- ابیات)

الف ایہہ دُنیا زن حیض پلیتی، ہرگز پاک نہ تھیوے ھُو

جیں فقر گھر دُنیا ہووے، لعنت اُس دے جیوے ھُو

حُبّ دُنیا دی رب تھیں موڑے، ویلے فکر کچیوے ھُو

سہ طلاق دُنیا نوں دئیے باھُوؒ، جے کر سچ پچیوے ھُو

 

اردو مفہوم

یہ دنیا اپنی حقیقت میں ناپاکی کی طرح ہے جو ظاہری سجاوٹ سے کبھی پاک نہیں ہو سکتی؛ جس نے فقر (درویشی) کا دعویٰ کیا مگر اپنے گھر میں دنیا کی لالچ سجا رکھی ہو، اس کی زندگی پر لعنت ہے؛ دنیا کی محبت (حُبّ) انسان کو رب کی یاد سے موڑ دیتی ہے اور ہر وقت فضول فکروں میں جکڑے رکھتی ہے؛ اگر باطن میں سچائی کو پرکھنا (پچیوے) ہے، تو اس دنیا کو دل سے تین (سہ) طلاق دے کر ہمیشہ کے لیے فارغ کر دو۔

1- ابیات

الف ایہو نفس اساڈا بیلی، جو نال اساڈے سِجّھا ھُو

زاہد عالم آن نوائے، جتھے ٹکڑا ویکھے تِجّھا ھُو

جو کوئی اِس دی کرے سواری، اُس نام اللہ دا لدّھا ھُو

راہِ فقر دا مشکل باھُوؒ، گھر ماں نہ سیرا رِدّھا ھُو

 

اردو مفہوم

یہ نفس کبھی ہمارا دوست (بیلی) نہیں ہو سکتا، یہ تو ہمیشہ ہمارے ساتھ دشمنی پر تلا (سِجّھا) رہتا ہے؛ یہ نفس بڑے بڑے زاہدوں اور عالموں کو بھی وہاں لا کر جھکا (نوائے) دیتا ہے جہاں اسے دنیا کا کوئی ٹکڑا یا لالچ نظر آئے؛ لیکن جو کوئی اس نفس پر قابو پا کر اس کی سواری کرتا ہے، وہی اللہ کے نام کی حقیقت کو پاتا (لدّھا) ہے؛ یاد رکھو کہ فقر اور سچائی کا راستہ بڑا مشکل ہے، یہ ماں کے گھر کا پکا ہوا حلوہ (سیرا) نہیں ہے جسے آسانی سے کھا لیا جائے۔

مزید متعلقہ پوسٹس

Hazrat Sultan Bahoo | Abyat-e-Bahu in Punjabi
Kalam-e-Bahu Ishq-e-Haqeeqi Aur Deedar-e-Ilahi
Itaat-e-Shariat Aur Zikr-e-Batin — Abyaat Hazrat Sultan Bahoo
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →