
Sufi Bazurg
📅 1630–1691 | 📍 Pakistanالف اَحد جد دِتی وکھالی، از خود ہویا فانی ھُو
قرب وصال مقام نہ منزل، ناں اوتھے جسم نہ جانی ھُو
نہ اوتھے عشق محبت کائی، نہ اوتھے کون مکانی ھُو
عینوں عین تھیوسے باھُوؒ، سِرّ وحدت سبحانی ھُو
اردو مفہوم
جب اللہ پاک (احد) نے میرے باطن میں اپنی جلوہ گری دکھائی (دتی وکھالی) تو میرا وجود اپنے آپ سے مٹ (فانی) ہو گیا؛ وہ قرب و وصال کا ایسا انوکھا مقام ہے جہاں نہ کوئی منزل ہے، نہ جسم کی قید ہے اور نہ ہی روح (جانی) کی عقل کام کرتی ہے؛ وہاں تو دنیاوی عشق و محبت اور زمان و مکان (کون مکانی) کا کوئی تصور ہی نہیں رہتا، بلکہ انسان ذاتِ حق میں ڈوب کر عین الیقین (عینوں عین) ہو جاتا ہے اور توحید کا راز پا لیتا ہے۔
الف اللہ سہی کیتوسے جداں، چمکیا عشق اگوہاں ھُو
رات دیہاں دیوے تاہ تکھیرے، نت کرے اگوہاں سوہاں ھُو
اندر بھاہیں اندر بالن، اندر دے وچ دھوہاں ھُو
باھُوؒ شوہ تداں لدھیوسے، جداں عشق کیتوسے سوہاں ھُو
اردو مفہوم
جب سے ہم نے اللہ کی حقیقت کو پہچانا (سہی کیتوسے) ہے، تب سے باطن میں عشق کا نور بلندی (اگوہاں) پر چمک اٹھا ہے، جو رات دن (دیہاں) دل کو تڑپاتا ہے اور ہمیشہ (نت) سیدھی راہ دکھاتا ہے؛ اب تو دل کے اندر ہی عشق کی آگ (بھاہیں) ہے اور اندر ہی اس کا دھواں ہے، اور ہم نے حق تعالیٰ (شوہ) کی ذات کو تب ہی پایا جب عشق سچا ہو گیا۔
الف اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ سُنیا دل میرے، جند قَالُوْا بَلٰی کوکیندے ھُو
حُبّ وطن دی غالب ہوئی، ہک پل سون نہ دیندی ھُو
قہر پووے تینوں رہزن دُنیا، تو تاں حق دا راہ مریندی ھُو
عاشقاں مُول قبول نہ کیتی باھُوؒ، توڑیں کر کر زاریاں رویندے ھُو
اردو مفہوم
جب میری روح (جند) نے روزِ ازل اللہ پاک کا یہ فرمان سنا کہ “کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟” تو دل کی گہرائی سے “ہاں تو ہی ہمارا رب ہے” (قالو بلیٰ) کی آواز پکار اٹھی (کوکیندے)؛ تب سے اصل وطن (آخرت/بارگاہِ الٰہی) کی محبت دل پر ایسی غالب ہوئی ہے کہ وہ ایک پل بھی چین سے سونے نہیں دیتی؛ اے دھوکے باز (رہزن) دنیا! تجھ پر قہر نازل ہو جو حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی (راہ مریندی) ہے، لیکن سچے عاشقوں نے تجھے کبھی (مول) قبول نہیں کیا، چاہے تو ان کے سامنے کتنی ہی زاریاں کر کے روئے۔
الف ازل ابد نوں سہی کیتوسے، ویکھ تماشے گزرے ھُو
چوداں طبق دِلے دے اندر، آتش لائے حجرے ھُو
جنہاں حق نہ حاصل کیتا، اوہ دوہیں جہانیں اُجڑے ھُو
عاشق غرق ہوئے وچ وحدت باھُوؒ، ویکھ تنہاندے مجرے ھُو
اردو مفہوم
ہم نے جب سے ازل اور ابد کی حقیقت کو پہچانا (سہی کیتوسے) ہے، دنیا کے سارے تماشے ہماری نظر میں بے وقعت ہو کر گزر گئے ہیں؛ اب تو دل کے اندر ہی چودہ طبق موجود ہیں جن کے حجروں میں عشقِ الٰہی کی آگ (آتش) جل رہی ہے؛ سچ یہ ہے کہ جنہوں نے دنیا میں آ کر حق کو حاصل نہیں کیا، وہ دونوں جہانوں میں لٹ (اُجڑے) گئے؛ جبکہ سچے عاشق اللہ کی توحید (وحدت) میں ایسے غرق ہوئے ہیں کہ اب ان کے احوال و مقامات (مجرے) دیکھنے کے لائق ہیں۔
الف ایہہ تن میرا چشماں ہووے، تے میں مُرشد ویکھ نہ رجاں ھُو
لوں لوں دے مُڈھ لکھ لکھ چشماں، اک کھولاں تے اک کجاں ھُو
اتنا ڈٹھیاں صبر ناں آوے، میں ہور کتے ول بھجاں ھُو
مُرشد دا دیدار ہے باھُوؒ، مینویں لکھ کروڑاں حجاں ھُو
اردو مفہوم
کاش میرا یہ سارا جسم آنکھیں (چشماں) بن جائے اور میں اپنے کامل رہبر کو دیکھتا (ویکھ) رہوں اور کبھی میرا دل نہ بھرے (رجاں)، بلکہ جسم کے پور پور (لوں لوں) کے نیچے لاکھوں آنکھیں ہوں کہ ایک بند کروں (کجاں) تو دوسری کھلی ہو؛ اتنا دیکھنے پر بھی دل کو قرار نہیں آتا اور مرشد کا یہ دیدار لاکھوں کروڑوں حج کرنے سے بھی بڑھ کر ہے
الف اکھیں سُرخ موہیں تے زردی، ہر ولوں دل آہیں ھُو
مہا مہاڑ خوشبوئی ، پہوتا ونج کداہیں ھُو
عشق مُشک نہ چھپے رہندے، ظاہر تھیں اتھاہیں ھُو
نام فقیر تنہاندا باھُوؒ، جنہاں لامکانی جائیں ھُو
اردو مفہوم
عشقِ حقیقی کی وجہ سے آنکھیں سرخ اور چہرے پر پیلا رنگ (زردی) چھا گیا ہے اور دل سے آہیں نکلتی ہیں، لیکن اس کیفیت کی اونچی خوشبو (مہا مہاڑ) دور دور تک جا (نج) پہنچی ہے؛ سچ ہے کہ عشق اور کستوری (مُشک) کبھی چھپائے نہیں چھپتے اور خود ہی ظاہر ہو جاتے ہیں، اور اصل فقیر صرف وہی لوگ (تنہاندا) ہیں جو مکان کی قید سے نکل کر لامکان تک پہنچ گئے۔
الف ایہہ تن رب سچے دا حُجرا، وچ پا فقیرا جھاتی ھُو
ناں کر منت خواج خضر دی، تیرے اندر آبِ حیاتی ھُو
شوق دا دیوا بال ہنیرے، متاں لبھی وست کھڑاتی ھُو
مرن تھیں آگے مر رہے باھُوؒ، جنہاں حق دی رمز پچھاتی ھُو
اردو مفہوم
یہ انسانی جسم سچے رب کا حجرہ (عبادت گاہ) ہے، اے فقیر! تو اپنے دل کے اندر جھانک کر (جھاتی) تو دیکھ؛ تجھے ظاہری طور پر آبِ حیات پینے کے لیے حضرت خضر علیہ السلام کی منت سماجت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ ابدی زندگی کا پانی (آبِ حیاتی) خود تیرے اپنے اندر موجود ہے؛ اپنے باطن کے اندھیرے میں سچے شوق کا دیا روشن کر تاکہ وہ کھوئی ہوئی باطنی دولت (وست کھڑاتی) تجھے مل جائے؛ اور جنہوں نے حق کے اس پوشیدہ راز (رمز) کو پہچان لیا، وہ مرنے سے پہلے ہی اپنی انا کو مار کر ابدی زندگی پا گئے۔
الف ایہہ تن رب سچے دا حُجرا، دل کٹھریا باغ بہاراں ھُو
وچے مصلّے وچے مصحف، وچے سجدے دیاں تھاراں ھُو
وچے کعبہ وچے قبلہ، وچے اِلَّا اللہ پکاراں ھُو
کامل مُرشد ملیا باھُوؒ، اوہ آپے لیسی ساراں ھُو
اردو مفہوم
یہ جسم سچے رب کا حجرہ ہے اور میرا دل باطنی باغ و بہار کا ایک خوبصورت کمرہ (کٹھریا) بن چکا ہے؛ اب تو میرے دل کے اندر ہی نماز کا مصلّیٰ ہے، اندر ہی قرآنِ پاک (مصحف) ہے اور اندر ہی سجدے کرنے کی اصل جگہیں (تھاراں) موجود ہیں؛ دل کے باطن میں ہی کعبہ و قبلہ قائم ہے اور وہیں سے “الا اللہ” کی ہو بہو پکاریں نکلتی ہیں؛ اور جب سے مجھے کامل رہنما (مرشد) ملا ہے، وہ خود ہی میرے باطن کی تمام خبر اور سنبھال (ساراں) لے رہا ہے۔
الف اندر وی ھُو تے باہر وی ھُو، باھُوؒ کتھاں لبھیوے ھُو
نے ریاضتاں کراہاں توڑیں، خون جگر دا پیوے ھُو
لکھ ہزار کتاباں پڑھ کے، دانشمند سدیوے ھُو
نام فقیر تنہاندا باھُوؒ، قبر جنہاں دی جیوے ھُو
اردو مفہوم
اللہ کا نور باطن (اندر) میں بھی جلوہ گر ہے اور ظاہر (باہر) میں بھی، پھر بھلا وہ کسی ایک جگہ سے کیسے ڈھونڈا (لبھیوے) جا سکتا ہے؛ چاہے کوئی کتنی ہی بڑی ظاہری ریاضتیں اور چّلے کاٹ لے اور اپنے جگر کا خون کیوں نہ پی لے؛ یا لاکھوں ہزاروں کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا عاقل و دانشمند کہلوائے (سدیوے)، ان سب سے کچھ حاصل نہیں ہوتا؛ اصل فقیر کا نام صرف انہی لوگوں کو زیب دیتا ہے جن کا باطن ایسا زندہ ہو کہ مرنے کے بعد ان کی قبر بھی روحانیت سے جیتی جاگتی رہے۔
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved