
Sufi Bazurg
📅 1630–1691 | 📍 Pakistanالف اندر وچ نماز اساڈی، کیسے جا نیتوِسے ھُو
نال قیام رکوع سجودے، کر تکرار پڑھِیوِسے ھُو
ایہہ دل ہجر فراقوں سڑیا، ایہہ دم مرے نہ جیوے ھُو
سچا راہ محمدؐ والا باھُوؒ، جیں وچ رب لبھیوِسے ھُو
اردو مفہوم
ہماری اصل نماز تو دل کے اندر (باطن میں) قائم ہے، جسے ہم نے عشق کی ایسی جگہ نیت رکھی (نیتوِسے) ہے جہاں دنیا کا کوئی خیال نہیں آتا؛ ہم ظاہر میں بھی قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ اس نماز کی تکرار کرتے ہیں؛ ہمارا یہ دل اللہ کے ہجر اور فراق میں اس طرح تڑپتا ہے کہ نہ یہ مرتا ہے اور نہ سکون سے جیتا ہے؛ اور سچا راستہ صرف حضرت محمد ﷺ کا راستہ ہے جس پر چل کر رب کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔
الف اندر کلمہ کل کل کردا، عشق سکھایا کلماں ھُو
چوداں طبق کلمے دے اندر، قرآن کتاباں علماں ھُو
کانے گپ کے قلم بناون، لکھ نہ سکن قلماں ھُو
باھُوؒ ایہہ کلمہ مینویں پیر پڑھایا، ذرا نہ رہیاں الماں ھُو
اردو مفہوم
میرے دل کے اندر ہر وقت کلمہ طیبہ کی رونق (کل کل) لگی رہتی ہے اور یہ سچا عشق ہی جس نے مجھے کلمے کی حقیقت سکھائی ہے؛ اس کلمے کے نور کے اندر ہی چودہ طبق، قرآن اور دنیا کے تمام علوم موجود ہیں؛ ظاهری لکھاری اگر سرکنڈوں (کانے) کو کاٹ کر قلم بھی بنا لیں، تب بھی وہ اس کلمے کے باطنی اسرار کو لکھنے سے قاصر ہیں؛ اور جب سے مجھے میرے مرشد (پیر) نے یہ باطنی کلمہ پڑھایا ہے، تب سے میرے اندر کے تمام دکھ اور بیماریاں (الماں) دور ہو گئی ہیں۔
ب باجھ حضوری نہیں منظوری، توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھُو
روزے نفل نماز گزارن، توڑے جاگن ساریاں راتاں ھُو
باجھوں قلب حضور نہ ہووے، توڑے کڈھن سے زکاتاں ھُو
باجھ فنا رب حاصل ناہیں، باھُوؒ ناں تاثیر جماعتاں ھُو
اردو مفہوم
اللہ کی بارگاہ میں دل کی حضوری (توجہ) کے بغیر کوئی عمل منظور نہیں ہوتا، چاہے لوگ کتنی ہی اونچی بانگ (اذانیں) اور نمازیں پڑھتے رہیں؛ چاہے کوئی دن کو نفل روزے رکھے اور ساری ساری رات جاگ کر عبادت گزارے؛ اگر دل رب کی یاد میں حاضر ہی نہ ہو تو سیکڑوں زکاتیں دینے کا بھی فائدہ نہیں؛ کیونکہ جب تک انسان اپنی انا کو مٹا کر فنا (باجھ فنا) نہ ہو جائے، تب تک رب حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی ظاہری جماعتوں میں کوئی تاثیر ہوتی ہے۔
ب بے ادباں ناں سار ادب دی، گئے ادباں توں وانجھے ھُو
جیہڑے ہون مٹی دے بھانڈے، کدی نہ ہوندے کانجھے ھُو
جیہڑے مڈھ قدیم دے کھیڑے، کدی نہ ہوندے رانجھے ھُو
جیں دل حضور نہ منگیا باھُوؒ، گئے دوہیں جہانیں وانجھے ھُو
اردو مفہوم
جو لوگ بے ادب ہوتے ہیں ان کو شریعت اور طریقت کے ادوار و ادب کی کوئی سمجھ (سار) نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ اس نعمت سے محروم (وانجھے) رہ جاتے ہیں؛ جیسے مٹی کے کچے برتن (بھانڈے) کو جتنا بھی دھو لیا جائے وہ کبھی چمکدار کانسی کا برتن (کانجھے) نہیں بن سکتا؛ اور جو مڈھ قدیم سے مخالف (کھیڑے) ہوں وہ کبھی سچے عاشق (رانجھے) نہیں بن سکتے؛ بالکل اسی طرح جس دل نے بارگاہِ الٰہی کی حضوری حاصل نہیں کی، وہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں محروم رہ گیا۔
ب بِسْمِ اللّٰہِ اِسْمُ اللہ دا، ایہہ وی گہنا بھارا ھُو
نال شفاعت سرورِ عالمؐ، چھٹسی عالم سارا ھُو
حدوں بے حد درود نبیؐ نوں، جیندا ایڈ پسارا ھُو
میں قربان تنہاں توں باھُوؒ , جنہاں ملیا نبیؐ سہارا ھُو
اردو مفہوم
بسم اللہ کے ساتھ اللہ پاک کا یہ پاک نام (اسمِ اللہ) مومن کا سب سے قیمتی اور بھاری گہنا (زیور) ہے؛ اور روزِ قیامت سرورِ عالم حضرت محمد ﷺ کی سچی شفاعت سے ہی سارا عالم عذاب سے نجات پائے گا؛ حضور ﷺ کی ذات پر حد سے بھی زیادہ درود و سلام ہو جن کے نور کا یہ سارا کائنات میں پسارا (پھیلاؤ) ہے؛ اور میں ان سچے عاشقوں پر قربان جاؤں جنہوں نے دل سے اپنے نبی ﷺ کا دامن اور سہارا تھام لیا ہے۔
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved