The Essence of Urdu Poetry

Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ، ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
کوئی نا امیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سویاں سے لہو میں نہا کر چلے
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
گئی عمر در بندِ فکر غزل
سو اس فن کو ایسا بڑھا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
Like and Share