
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
غزل -میر تقی میر
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ، ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
کوئی نا امیدانہ کرتے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سویاں سے لہو میں نہا کر چلے
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
گئی عمر در بندِ فکر غزل
سو اس فن کو ایسا بڑھا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے
مجموعی مطلب
اردو شاعری کے شہنشاہ میر تقی میر کی یہ غزل ان کے درویشانہ مزاج اور عشق میں فنا ہو جانے کی ایک مکمل داستان ہے۔ مطلع میں وہ ایک فقیر کی صورت محبوب کی گلی سے دعا دیتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں، جو ان کی عاجزی کی انتہا ہے۔ غزل کے اشعار میں وہ عہدِ وفا کو اپنی جان دے کر پورا کرنے کا ذکر کرتے ہیں اور محبوب کے حسن کی ہیبت کا بیان کرتے ہیں جس نے انہیں خود اپنی ذات سے بھی بیگانہ کر دیا۔ میر نے اپنی بندگی اور پرستش کا تذکرہ اس انداز میں کیا ہے کہ ان کی محبت محبوب کو لوگوں کی نظر میں خدا کے رتبے تک لے گئی۔ مقطع میں وہ اپنے فن (غزل گوئی) پر تاریخی فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے اس فن کو اس بلندی تک پہنچا دیا ہے کہ اب دنیا سے جاتے ہوئے ہمارے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے کہ ہم نے زندگی میں کیا کارنامہ انجام دیا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| صدا کرنا | آواز دینا، پکارنا (فقیر کی پکار) |
| عہد | وعدہ، اقرار |
| ناامیدانہ | مایوسی کے ساتھ، بغیر کسی امید کے |
| بے خود کیا | اپنے آپ سے بے خبر کر دینا، مدہوش کرنا |
| جبیں | پیشانی، ماتھا |
| حقِ بندگی | عبادت یا غلامی کا حق |
| پرستش | پوجا کرنا، بہت زیادہ چاہنا |
| بُت | مورت (شاعری میں محبوب کے لیے استعمال ہوتا ہے) |
| در بندِ فکرِ غزل | غزل کی سوچ کے پیچھے، شاعری کی فکر میں |
| فن | ہنر، کمال (یہاں مراد شاعری ہے) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved