The Essence of Urdu Poetry

Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
عشق کیے پچھتائے ہم تو دل نہ کسی سےلگانا تھا
جیدر ہو وہ مہ نکلا اس راہ نہ ہم کو جانا تھا
غیریت کی اس کی شکایت یار عبث اب کرتے ہیں
طور اس شوخ ستم پیشہ کا طفلی سے بیگانہ تھا
بزم عیش کی شب کا یہاں دن ہوتے ہی یہ رنگ ہوا
شمع کی جاگہ دود تنک تھا خاکسترِ پروانہ تھا
دخل مروت عشق میں تھا تو دروازے سے تھوڑی دور
عمرہ نعشِ عاشق کی اس ظالم کو بھی آنا تھا
طرفہ خیال کیا کرتا تھا عشق و جنوں میں روز و شب
روتے روتے ہنستے ہنستے لگا یہ میرؔ عجب دیوانہ تھا
like and Share
اس غزل کے مشکل الفاظ کے معنی درج ذیل ہیں
معنی
الفاظ
شرارتی اور ظلم کرنے والا (محبوب)
دنیا کے لوگوں سے الگ تھلگ یا نرالا
خوشی اور عیش و آرام کی محفل
کالا دھواں
راکھ (جل کر راکھ ہو جانا)
لحاظ، پاسداری یا مروت دکھانا
محبت کرنے والے کا جنازہ یا لاش
عجیب، انوکھا یا حیرت انگیز
دیوانگی یا پاگل پن کی حد تک عشق
حیران کن یا انوکھا
شوخ ستم پیشہ
خلق سے بیگانہ
بزمِ عیش
دودِ سیاہ
خاکستر
مروت
نعشِ عاشق
طرفہ
جنوں
عجب