Untitled design 11

Mir Taqi Mir

Khuda-e-Sukhan

📅 1723 - 1810 | 📍 India

غزل -میر تقی میر

عشق کیے پچھتائے ہم تو دل نہ کسی سےلگانا تھا

غزل -میر تقی میر

عشق کیے پچھتائے ہم تو دل نہ کسی سےلگانا تھا
جیدر ہو وہ مہ نکلا اس راہ نہ ہم کو جانا تھا

غیریت کی اس کی شکایت یار عبث اب کرتے ہیں
طور اس شوخ ستم پیشہ کا طفلی سے بیگانہ تھا

بزم عیش کی شب کا یہاں دن ہوتے ہی یہ رنگ ہوا
شمع کی جاگہ دود تنک  تھا خاکسترِ پروانہ تھا

دخل مروت عشق میں تھا تو دروازے سے تھوڑی دور
عمرہ نعشِ عاشق کی اس ظالم کو بھی آنا تھا

طرفہ خیال کیا کرتا تھا عشق و جنوں میں روز و شب
روتے روتے ہنستے ہنستے لگا یہ میرؔ عجب دیوانہ تھا

 

مجموعی مطلب
اردو شاعری کے خدائے سخن میر تقی میر کی یہ غزل عشق میں ملنے والی ناکامی اور پچھتاوے کی ایک سچی تصویر ہے۔ شاعر اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دل لگا کر اسے سوائے پشیمانی کے کچھ حاصل نہ ہوا، اور کاش وہ اس راستے پر نہ چلتا جہاں سے اسے صرف دکھ ملنے تھے۔ غزل کے اشعار میں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بھی بہت خوبصورت پیرائے میں کیا گیا ہے کہ جس طرح صبح ہوتے ہی محفل کی رونق (شمع اور پروانہ) راکھ بن جاتی ہے، ویسے ہی زندگی کی خوشیاں بھی عارضی ہیں۔ مقطع میں میر نے اپنی دیوانگی اور بدلتی ہوئی کیفیات (رونا اور ہنسنا) کا ذکر کر کے انسانی نفسیات پر عشق کے گہرے اثرات کو واضح کیا ہے۔ یہ غزل میر کے مخصوص سوز و گداز کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
مہچاند (محبوب کے لیے استعارہ)
عبثفضول، بے فائدہ
شوخِ ستم پیشہظلم کرنے والا محبوب
طفلیبچپن
بیگانہاجنبی، ناواقف
بزمِ عیشعیش و عشرت کی محفل
دودِ تنکہلکا سا دھواں
خاکسترِ پروانہپروانے کی راکھ
دخلِ مروتمروت کا لحاظ، ہمدردی کا اثر
طرفہ خیالانوکھا یا عجیب خیال
عجب دیوانہانوکھا پاگل

مزید متعلقہ پوسٹس

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →