1

Baba Fariduddin Ganjshakar

Sufi

📅1188 - 1266 | 📍 Pakistan

شلوک - بابا فرید گنج شکر

کالے مینڈے کپڑے

شلوک – بابا فرید گنج شکر

فریدہ کالے مینڈے کپڑے، کالا مینڈا ویش۔

گناہیں بھریا میں پھراں، لوک کہن درویش۔

تتی توئ نا پلکّے، جے مینڈا سائیں کرے پیار۔

فریدہ خاک نہ نندئے، خاک جیڈ نہ کوئ۔

جیوندیاں پیریں تلے، موئیاں اوپر ہوئ۔

مجموعی مطلب

اس کلام میں عاجزی کی انتہا ہے۔ بابا فریدؒ فرماتے ہیں کہ میرا لباس اور میرا ظاہر کالا (درویشوں جیسا) ہے، لیکن میرا باطن گناہوں سے بھرا ہوا ہے؛ لوگ مجھے باہر سے دیکھ کر درویش کہتے ہیں جبکہ میں اندر سے گنہگار ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرا سائیں (اللہ) مجھ سے محبت کرے تو دنیا کی کوئی مصیبت (تتی توئ) میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آخر میں وہ مٹی (خاک) کی مثال دیتے ہیں کہ مٹی کو کبھی حقیر نہ سمجھو، اس سے بڑھ کر کوئی صابر نہیں؛ جب انسان زندہ ہوتا ہے تو یہ مٹی اس کے پیروں تلے روندی جاتی ہے، اور جب وہ مر جاتا ہے تو یہی مٹی اس کے اوپر آ کر اسے پناہ دیتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
مینڈےمیرے
ویشبھیس، لباس، حلیہ
تتی توئتپتا ہوا تووا، گرم زمین، مصیبت
نندئےنِندیا کرنا، برا بھلا کہنا، حقیر سمجھنا
جیڈجتنا، برابر
موئیاںمرنے کے بعد

مزید متعلقہ پوسٹس

جو تَیں مارن مُکیّاں تنھاں نہ ماریں گُھمّ
Shalok Baba Fariduddin Ganjshakar
روٹی میری کاٹھ دی
فریدہ جے تو عقل لطیف ہیں، کالے لکھ نہ لیکھ۔
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →