imam ahmed raza khan barelvi nayab shairy

Imam Ahmed Raza Khan Barelvi

Imam Barelvi

📅 1856–1921 | 📍 India

Manqabat-e-Ghaus-e-Azam

"Tu Hai Wo Ghaus Ke Har Ghaus Hai Shaidah Tera"

Explore the spiritual depths on

shairy.nayabcollection.pk

The Sultan of Saints

A journey into the supreme spiritual rank and unmatched authority of Sheikh Abdul Qadir Jilaniؒ as presented by Ala Hazrat.

تُو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
تُو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا

"You are such a Ghaus (Helper) that every Ghaus is devoted to you; You are such a Ghaith (Rain of mercy) that every rain is thirsty for you."

سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے
افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا

"The suns of previous saints rose and set; But on the horizon of light, your sun shines forever."

Stay Connected

For more literary treasures, visit us online.

shairy.nayabcollection.pk

contact@nayabcollection.pk

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

تو ہے وہ غوث

نعت- اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا

 

سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے

افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا

 

مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہین

ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا

 

جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے

سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا

 

بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین و حریم

کہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا

 

تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسی

قطب خود کون ہے خادم ترا چیلا تیرا

 

سارے اقطاب جہاں کرتے ہیں کعبہ کا طواف

کعبہ کرتا ہے طواف در والا تیرا

 

اور پروانے ہیں جو ہوتے ہیں کعبہ پہ نثار

شمع اک تو‘ ہے کہ پروانہ ہے کعبہ تیرا

 

شجرِ سرو کہی کس کے اگائے تیرے

معرفت پھول سہی کس کا کھلایا تیرا

 

تو ہے نوشاہ براتی ہے یہ سارا گلزار

لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہرا تیرا

 

ڈالیاں جھومتی ہیں رقص خوشی جوش پہ ہے

بلبلیں جھولتی ہیں گاتی ہیں سہرا تیرا

 

گیت کلیوں کی چٹک غزلیں ہزاروں ک چہک

باغ کے سازوں میں بجتا ہے ترانا تیرا

 

صف ہر شجرہ مین ہوتی ہے سلامی تیری

شاخیں جھک جھک کے بجا لاتی ہیں مجرا تیرا

 

کس گلستاں کو نہیں فصلِ بہاری سے نیاز

کون سے سلسلہ میں فیض نہ آیا تیرا

 

نہیں کس چاند کی منزل میں ترا جلوہ نور

نہیں کس آئینہ کے گھر میں اجالا تیرا

 

راج کس شہر میں کرتے نہیں تیرے خدام

باج کس نہر سے لیتا نہیں دریا تیرا

 

مزرعِ چشت و بخارا و عراق و اجمیر

کون سی کشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا

 

اور محبوب ہیں ہاں پر سبھی یکساں تو نہیں

یوں تو محبوب ہے ہر چاہنے والا تیرا

 

اس کو سو فرد سراپا بفراغت اوڑھیں

تنگ ہو کر جو اترنے کو ہو نیما تیرا

 

گردنیں جھک گئیں سر بچھ گئے دل لوٹ گئے

کشفِ ساق آج کہاں یہ تو قدم تھا تیرا

 

تاج فرق عرفا کس کے قدم کو کہیے

سر جسے باج دیں وہ پاﺅں ہے کس کا تیرا

 

سکر کے جوش مین جو ہیں وہ تجھے کیا جانیں

خضر کے ہوش سے پوچھے کوئی رتبہ تیرا

 

آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتا ہے قیاس

نشے والوں نے بھلا سکر نکالا تیرا

 

وہ تو چھوٹا ہی کہا چاہیں کہ ہیں زیر حضیض

اور ہر اوج سے اونچا ہے ستارہ تیرا

 

دل اعدا کو رضا تیز نمک کی دُھن ہے

اک ذرا اور چھڑکتا رہے خامہ تیرا

 

منقبت کا مجموعی مفہوم 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ کی یہ منقبت غوثِ الثقلین حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی بارگاہ میں عقیدت کا بے مثال نذرانہ ہے۔ اس میں آپ بیان کرتے ہیں کہ حضور غوثِ اعظمؒ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے در کے سب اولیاء اللہ محتاج ہیں۔ آپؒ ولایت کے وہ سورج ہیں جس پر کبھی زوال نہیں آتا۔ کائنات کا ہر روحانی سلسلہ (چشت، بخارا، عراق، اجمیر) آپؒ ہی کے فیض سے سیراب ہو رہا ہے۔ اعلیٰ حضرتؒ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کی نظر صرف ظاہری حالات پر ہے وہ آپؒ کے حقیقی رتبے کو نہیں پا سکتے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپؒ کا مقام ہر بلندی سے اونچا ہے اور آپؒ بیکسوں کے سچے سہارے ہیں۔

منقبتِ غوثِ اعظم: مشکل الفاظ کے معنی (تفصیلی)

لفظمعنی
غیثبارش (مراد روحانی فیض)
مہرسورج
نوا سنجنغمہ گانے والا / تعریف کرنے والا
ہمتابرابر کا / ثانی
صریفین و حریمبغداد شریف کے قریب مقامات کے نام
اقطابقطب کی جمع (ولایت کا بڑا درجہ)
طوافِ درِ والااعلیٰ چوکھٹ کا طواف کرنا
نوشاہدولہا (مراد اولیاء کے دولہا)
مزرع / کشتکھیتی / زمین
جھالاتیز بارش / فیض کا ریلا
نیماایک قسم کا لباس / کرتہ
سُکرروحانی مستی / وجد
حضیضپستی / نیچائی
خامہقلم

مزید متعلقہ پوسٹس

منقبتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ
Manqabat Hassan Raza Khan Barelvi
منقبتِ مولا علی شیرِ خدا
منقبتِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →