download 7

Parveen Shakir

Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994

📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistan

غزل – پروین شاکر

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

غزل – پروین شاکر

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

 

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

 

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

 

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے

موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

 

آخر وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی

تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

 

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

 

مجموعی مطلب
پروین شاکر کی یہ غزل محبت کی بے ثباتی اور اس کے نتیجے میں ملنے والے گہرے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ مطلع میں شاعرہ نے محبوب کو ‘خوشبو’ اور خود کو ‘پھول’ سے تشبیہ دے کر ایک کائناتی سچائی بیان کی ہے کہ خوشبو تو بکھر کر اپنی راہ لیتی ہے مگر پھول اپنی جڑوں سے جڑا ہونے کے باعث تنہا رہ جاتا ہے۔ غزل کے اشعار میں اس صدمے کا ذکر ہے جسے شاعرہ نے ابتدا میں ایک معمولی زخم سمجھا تھا، مگر وہ وقت کے ساتھ روح کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ ‘خانہ بجاں’ پھرنے والی ہوا اور دریا کے اترنے جیسے استعاروں سے انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ مقطع میں تہذیب کے برزخ (دو راہے) کا ذکر کر کے پروین شاکر نے اس کشمکش کو بیان کیا ہے جو نئی نسل کو اپنے آباؤ اجداد کی روایات اور جدید دور کے تقاضوں کے درمیان محسوس ہوتی ہے۔ یہ غزل دکھ، انتظار اور سماجی شعور کا ایک بہترین امتزاج ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
رگِ جاںگردن کی رگ / زندگی کی ڈور
خانہ بجاںبے گھر / در بدر پھرنے والا
رفاقتدوستی / ساتھ / ہمراہی
موسمِ گلبہار کا موسم
تہذیبشائستگی / تمیز / رہن سہن کا طریقہ
برزخدو چیزوں کے درمیان کا پردہ یا آڑ
اجدادباپ دادا / بزرگ (جد کی جمع)

مزید متعلقہ پوسٹس

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ
عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →