
Bebak Urdu Shaa’ir
📅 1950 - 2020 | 📍 Indiaغزل – راحت اندوری
زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر
راستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کر
ٹوٹ کر بکھری ہوئی تلوار کے ٹکڑے سمیٹ
اور اپنے ہار جانے کا سبب معلوم کر
جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو غزل کا نام دے
رات بھر کی کروٹوں کا ذائقہ منظوم کر
شام تک لوٹ آؤں گا ہاتھوں کا خالی پن لیے
آج پھر نکلا ہوں میں گھر سے ہتھیلی چوم کر
مت سکھا لہجے کو اپنی برچھیوں کے پینترے
زندہ رہنا ہے تو لہجے کو ذرا معصوم کر
یہ غزل زندگی کے تجربات، جدوجہد، شکست، خواب، تنہائی اور نرم مزاجی کا سبق دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان کو زندگی کے زخموں، تکلیفوں اور مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ انہی سے سیکھنا چاہیے۔ راستے کی ٹھوکریں اور رکاوٹیں بھی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہیں
| لفظ | معنی |
|---|---|
| محروم | محرومی میں رکھنا، محروم کرنا |
| منظوم | نظم کی صورت دینا، شاعری میں ڈھالنا |
| خالی پن | تنہائی، کمی، ویرانی کا احساس |
| برچھی | نیزہ، ہتھیار |
| پینترے | چالیں، حربے، طریقے |
| معصوم | سادہ، نرم، بے ضرر |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved