
Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994
📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistanغزل – پروین شاکر
غزل – پروین شاکر
خواب و خیال ہوا برگ و بار کا موسم
بچھڑ گیا تیرے صورت بہار کا موسم
کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آے
سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم
پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کا
میرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم
مجموعی مطلب
پروین شاکر کی یہ غزل محبت میں انتظار کی طوالت اور جذباتی شکست و ریخت کی ایک بھرپور تصویر ہے۔ شاعرہ کہتی ہے کہ محبوب کے بچھڑنے کے ساتھ ہی زندگی سے بہار کا موسم رخصت ہو گیا اور اب آنکھوں کے دریچوں میں صرف انتظار کی رت ٹھہر گئی ہے۔ غزل کے اشعار میں ‘چنار’ اور ‘آگ’ کے استعاروں سے جدائی کی تپش کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ محبوب کے لہجے کو بارش کی ‘پھوار’ سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے لیے سماعتیں ترس رہی ہیں۔ اس کلام میں جہاں ایک طرف وفاداری اور پکار کا ذکر ہے، وہیں دوسری طرف اعتبار کے ٹوٹ جانے کا دکھ بھی نمایاں ہے کہ اب رفاقتوں کے خواب تو موجود ہیں مگر وہ پہلے جیسا مان نہیں رہا۔ پروین شاکر نے محبت کے اس جبر اور اختیار کی کشمکش کو نہایت مہارت سے لفظوں کا جامہ پہنایا ہے، جو قاری کے دل پر ایک گہرا اثر چھوڑتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| برگ و بار | پھول اور پتے / ہریالی |
| نیم وا دریچے | آدھی کھلی ہوئی کھڑکیاں |
| سماعتوں کی زمیں | سماعت (سننے کی طاقت) کی دنیا |
| پھوار | ہلکی ہلکی بارش / بوندا باندی |
| سرو قامت | سرو کی طرح لمبا قد (خوبصورت قد والا) |
| دار کا موسم | پھانسی یا کٹھن امتحان کا وقت |
| چنار کا موسم | خزاں کا وہ موسم جس میں چنار کے پتے آگ کی طرح سرخ ہو جاتے ہیں |
| خوابِ رفاقت | ساتھ نبھانے کے خواب |
| کوئے یار | محبوب کی گلی |
| جبر | زبردستی / مجبوری |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved