The Essence of Urdu Poetry
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہو جاؤ
بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہو جاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حال دل اپنا
مگر لکھنا تھی جب لائق اظہار ہو جاؤ