wasi shah

Wasi Shah

Mohabbat ka Shaair

📅 1973 - tahal | 📍 Pakistan

غزل - وصی شاہ

اُس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہو گا

غزل – وصی شاہ

اُس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہو گا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہو گا

جس کے ہونے سے مری سانس چلا کرتی تھی
کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارہ ہو گا

یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور
اُس نے دریا میں کہیں پاؤں اتارا ہو گا

زندگی! اب کے میرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے یہی کھیل دوبارہ ہو گا

مجموعی مطلب
نوشی گیلانی کی یہ غزل امید اور اداسی کا ایک بہت ہی نازک ملاپ ہے۔ مطلع میں وہ ایک خوبصورت یقین کا اظہار کرتی ہیں کہ ایک دن محبوب ان کا ضرور ہوگا۔ غزل کے اشعار میں محبوب کے حسن کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ جیسے دریا کا پانی بھی اس کے لمس سے سنہرا ہو گیا ہو۔ مگر غزل کا اختتام زندگی کی تلخیوں پر ہوتا ہے، جہاں شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر زندگی کے وہی پرانے دکھ اور وہی کھیل دوبارہ دہرایا جانا ہے، تو وہ اب اس کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ غزل انسانی جذبات کی خوبصورت ترجمانی کرتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
ستارہ ہوناچمکنا / امید کی علامت ہونا
گزارہ ہونابسر ہونا / وقت کٹنا
سنہری سا غرورسنہری چمک (محبوب کے عکس کی وجہ سے)
دریا میں پاؤں اتارناپانی میں قدم رکھنا
طے ہونافیصلہ ہونا / مقرر ہونا

مزید متعلقہ پوسٹس

عشق تو بن رسوائی عالم باعث ہے رسوائی کا
پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں، کوئی نہیں
ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​
Urdu Ghazal Library
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →