NAYAB SHAIRY

The Essence of Urdu Poetry

images 7

Mir Taqi Mir

Khuda-e-Sukhan

📅 1723 - 1810 | 📍 India
GHAZAL MASNAVIYAT ASHAAR IMAGE SHAIRY

ہستی اپنی حباب کی سی ہے


غزل -میر تقی میر

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

 

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

 

چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

 

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے

 

نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے

 

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے

 

آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے

 

دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے

 

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

 

Like and Share

[ccc_my_favorite_select_button post_id="" style=""]