
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
غزل -میر تقی میر
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
مجموعی مطلب
خدائے سخن میر تقی میر کی یہ غزل زندگی کی بے ثباتی اور محبوب کے بے مثال حسن کی ایک مکمل داستان ہے۔ مطلع میں میر انسانی زندگی کو پانی کے بلبلے (حباب) سے تشبیہ دیتے ہیں جو کسی بھی وقت مٹ سکتا ہے، اور دنیا کی چمک دمک کو ایک دھوکا (سراب) قرار دیتے ہیں۔ غزل کا دوسرا شعر محبوب کے لبوں کی نزاکت کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دینے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ میر نے اس کلام میں جہاں تصوف اور دنیا کی حقیقت کو بیان کیا ہے، وہیں اپنی عاشقانہ بے چینی اور محبوب کی سنگدلی کا تذکرہ بھی نہایت سوز کے ساتھ کیا ہے۔ مقطع میں محبوب کی نیم وا (ادھ کھلی) آنکھوں کی مستی کو شراب سے تشبیہ دے کر میر نے اس غزل کو ایک لازوال رومانوی رنگ دے دیا ہے۔ یہ غزل میر کے فن کا نچوڑ ہے جس میں فلسفہ اور جذبات ایک ساتھ رچے بسے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ہستی | زندگی، وجود |
| حباب | پانی کا بلبلہ (جو فوراً پھٹ جائے) |
| نمائش | دکھاوا، جلوہ |
| سراب | دھوکہ (دور سے ریت کا پانی نظر آنا) |
| نازکی | نرمی، نزاکت |
| اضطراب | بے چینی، بے قراری |
| نقطۂ خال | تِل کا نشان (محبوب کے چہرے پر) |
| خانہ خراب | جس کا گھر برباد ہو گیا ہو (عاشق) |
| آتشِ غم | دکھ کی آگ |
| چشمِ پُر آب | آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھ |
| نیم باز آنکھیں | ادھ کھلی آنکھیں (خمار آلود) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved