
Bazurg
📅 1859–1937 | 📍 Pakistan“کتاب “مراۃ العرفان
نعتِ پاک — حضرت پیر مہر علی شاہ
سارباناں مہر باناں راہیا
شالا جیویں خیر تھیوی ماہیا
آکھیں جاانہاں پیاریاں دلجانیاں
گوڑھے نیناں والیاں مستانیاں
لاپرتاں دے دلاسے اوہ گئے
اوہ اُہ دل دے پیارے اوہ گئے
سارا عالم صدقے آکھاں بول توں
واراں سر میں اُس انوکھڑے ڈھول توں
بن تساڈے ہک گھڑی سو سال دی
بہہ ٹھکانے پئی تساڈے بھال دی
اکّ و چھوڑا ڈو جھے طعنے جگ دے
پیراں تھیں سر تک المبے اگ دے
بالدی ڈیوے پئی خانقاہاں تے
آوندا ویکھاں ڈھولا انہاں راہاں تے
چشما فرش وچھاواں خاطر ڈھول دی
مرحبا یا مرحبا پئی بول دی
پہنچیں جد تُوں سوہنیاں دی جھوک تے
خیر ہووی انہاں نُوں ذرا روک تے
جا سُنیہرا ڈیویں اُنہاں جانیاں
گُوڑھے نیناں والیاں مستانیاں
لَسْتُ اَنْسٰی بِالثَّنَايَا قَوْلُهَا
کُلُّ مَنْ فِی الْحَیِّ اَسْرٰی فِیْ يَدَ ئے
بھلدے نہیں اوہ بول مٹھڑے ڈھول دے
بول سانول یار روہی رولدے
رات ساری گُذری تارے گندیاں
یاد کر کر قول مِیزاں مندیاں
.
نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور پیر مہر علی شاہ کی مشہور کتاب”مراۃ العرفان “سے لی گئی ہے
مجموعی مطلب
یہ کلام دراصل عربی کے مشہور قصیدۂ فارضیہ کا انتہائی پُر سوز پنجابی ترجمہ اور ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی پکار ہے。 اس کلام میں شاعر مدینہ جانے والے ساربان (قافلے والے) کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اے مہربان مسافر! خدا کرے تم سلامت رہو، میرا ایک پیغام جا کر ان گہری اور مستانہ آنکھوں والے پیارے محبوب (حضور ﷺ) کو دے دینا。 وہ دل کے پیارے ہمیں دلاسے دے کر خود جدا ہو گئے ہیں، ان کی جدائی کا ایک ایک لمحہ سو سال جتنا لمبا محسوس ہوتا ہے اور اوپر سے دنیا والے طعنے دیتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں ہجر کی آگ دہک رہی ہے。 شاعر کہتے ہیں کہ میں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہوں، خانقاہوں پر دیے جلاتا ہوں اور دل سے ‘مرحبا’ کی صدائیں آ رہی ہیں。 کلام کے آخر میں عربی اشعار کے ساتھ حضور ﷺ کی عظمت کا اقرار ہے اور عاشق اپنے دل کی حالت بتاتا ہے کہ محبوب کے وہ میٹھے بول بھولتے نہیں ہیں اور ان کی یاد میں اب تو ساری رات تارے گنتے ہوئے گزر جاتی ہے。
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سارباناں / راہیا | قافلہ چلانے والا، اونٹ والا، راستے کا مسافر |
| شالا جیویں | اللہ کرے تم جیتی رہو / سلامت رہو (دعا دینا) |
| گوڑھے نیناں | گہری، کالی اور پرکشش آنکھیں |
| لاپرتاں | وہ جو مڑ کر واپس نہ آئے، جدا ہو جانے والے |
| واراں سر | سر قربان کرنا، صدقے جانا |
| انوکھڑے ڈھول | انوکھا اور سب سے پیارا محبوب |
| پتی بھال دی | انتظار کا راستہ دیکھنا، امید لگائے بیٹھنا |
| المبے اگ دے | آگ کی لپٹیں، ہجر کے شعلے |
| ڈھولا / سانول یار | پیارا محبوب (یہاں مراد حضور ﷺ ہیں) |
| چشماں فرش وچھاواں | راستے میں آنکھیں بچھانا، بے صبری سے انتظار کرنا |
| جھوک | بستی، رہنے کی جگہ، آستانہ |
| سُنیہرا | پیغام |
| روہی رولدے | صحرا یا چولستان کے ویرانے میں رول دینے والے بول |
| تارے گندیاں | رات بھر جاگنا، نیند نہ آنا (انتظار کی حالت) |
| قول مِیتاں مندیاں | پیارے دوستوں کے وعدے اور باتیں یاد کرنا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved