download 7

Parveen Shakir

Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994

📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistan
GHAZAL NAZAM ASHAAR KALAM

کو با کو پھیل گئی بات شناسائی کی

غزل – پروین شاکر

کو با  کو پھیل  گئی  بات  شناسائی  کی 

اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی 

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی 

وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا 

بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی 

تیرا پہلو، تیرے دل کی طرح آباد ریے 

تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا

روح  تک آ گئی،  تاثیر مسیحائی  کی 

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتاہے 

جاگ اٹھتی ہے عجب خواہش انگڑائی کی