
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistanنظم- فیض احمد فیض
نظم- فیض احمد فیض
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
مجموعی مطلب
“مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ” فیض احمد فیض کی وہ نظم ہے جو رومانیت سے اشتراکیت (سوشلزم) کی طرف ان کے فکری سفر کو بیان کرتی ہے۔ نظم کے پہلے حصے میں شاعر اعتراف کرتا ہے کہ کبھی اس کے نزدیک محبوب کا غم ہی دنیا کا سب سے بڑا غم تھا، مگر پھر زمانے کی تلخ حقیقتوں نے اس کا رخ بدل دیا۔ وہ کوچہ و بازار میں بکتے ہوئے جسموں، بیماریوں، غربت اور سماجی ناانصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب اسے دنیا کے ان دکھوں نے اتنا بے چین کر دیا ہے کہ وہ صرف محبت میں مگن نہیں رہ سکتا۔ یہ نظم پیغام دیتی ہے کہ جب معاشرہ ظلم اور مصیبت میں گھرا ہو، تو ایک حساس انسان کے لیے صرف اپنی ذاتی خوشی یا محبت کافی نہیں ہوتی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| درخشاں | روشن / چمکتا ہوا |
| غمِ دہر | دنیا کا غم / زمانے کے دکھ |
| ثبات | پائیداری / ہمیشگی |
| نگوں ہونا | جھک جانا |
| بہیمانہ طلسم | درندگی والا جادو / ظالمانہ نظام |
| ریشم و اطلس و کمخاب | قیمتی اور ریشمی کپڑے |
| ناسور | وہ زخم جو کبھی نہ بھرے |
| کشتنی | مار ڈالنے کے لائق |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved