
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistanغزل – فیض احمد فیض
غزل- فیض احمد فیض
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
ادھر ایک حرف کہ کشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اڑا دیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یادگار بنا دیا
مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ غزل ایثار اور استقامت کی ایک عظیم داستان ہے۔ شاعر اپنے مخالفین اور دوستوں دونوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ انہوں نے حق اور محبت کی راہ میں اپنی جان کا سودا کر کے اپنا قرض اتار دیا ہے۔ وہ موت کے سامنے بھی سر جھکانے کے قائل نہیں بلکہ کفن میں بھی ‘غرورِ عشق’ کو برقرار رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ غزل کا آخری شعر (جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم) انسانی عزم کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم حق پر ڈٹ گئے تو پہاڑ کی طرح سخت تھے اور جب چلے تو اپنی جان کی پرواہ بھی نہ کی۔ یہ غزل ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کسی مقصد کے لیے جینا اور مرنا جانتا ہو۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ناوکِ نیم کش | آدھا کھینچا ہوا تیر (مراد وہ وار جو ادھورا ہو) |
| چارہ گر | علاج کرنے والا / ہمدرد |
| نوید | خوشخبری |
| کج جبیں | ٹیڑھی ٹوپی یا ماتھے کی لکیر (شان و شوکت کی علامت) |
| کشتنی | قتل کرنے کے لائق |
| عذرِ گفتنی | کہنے کے لائق بات / بہانہ |
| کوہِ گراں | بھاری پہاڑ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved